مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 4 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 4

فرموده ۱۹۶۶ء 4 د دمشعل راه جلد دوم قدر ہے لیکن خدام الاحمدیہ کی اکثریت ایسے افراد پر مشتمل ہے جن کے متعلق نہیں کہا جاسکتا کہ وہ بہت اچھا کام کر رہے ہیں اور ان کا بڑا حصہ ایسا ہے جس کے متعلق نہیں کہا جا سکتا کہ وہ اس کم سے کم معیار کے مطابق زندگی بسر کر رہا ہے جو ایک احمدی کا ہونا چاہئے۔مجالس کا اگر جائزہ لیا جائے تو ہمیں یہ نقشہ نظر آتا ہے کہ جہاں بعض اچھا کام کرنے والی مجالس ہیں وہاں بعض ایسی مجالس بھی ہیں جو سال میں ایک رپورٹ بھی مرکز میں نہیں بھجواتیں یا سال میں ایک آدھ رپورٹ کے علاوہ کوئی رپورٹ ان کی طرف سے مرکز میں موصول نہیں ہوتی اور یہ حالت بہت فکر یدا کرنے والی ہے۔اس لئے مجالس خدام الاحمدیہ کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے ہرممبر اور اپنی ہر مجلس کو اٹھا کر کم سے کم اس معیار تک لے جائیں جو ان کے ذہن میں ہے۔اگر جماعت کے نوجوانوں میں دس ہیں یا تمیں فیصدی ہی کام کرنے والے ہوں تو ظاہر ہے کہ ہم وہ نتیجہ حاصل نہیں کر سکتے جس کی امید ہم سو فیصدی کی صورت میں اپنے رب سے رکھتے ہیں۔جہاں تک مرکز کا سوال ہے وہ ہمیشہ ہی اس طرف تھوڑی بہت توجہ کرتا رہا ہے اور کرتا ہے۔لیکن جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ ہم اس وقت زندگی کے ایک نازک دور میں داخل ہو چکے ہیں۔اگر اس وقت ہم سے کوئی سستی ہو یا غفلت کا ہم شکار ہوں تو اللہ تعالیٰ ہمیں کبھی بھی معاف نہیں کرے گا۔اس وقت ہماری جماعت پر ہے سال کے قریب عرصہ گزر چکا ہے اور ابتدائی کام جو اللہ تعالیٰ نے اس سے لینا تھا وہ لے چکا ہے اور جو مضبوط بنیاد یں اللہ تعالیٰ نے اس کے ذریعہ قائم کرنی تھیں وہ ایک حد تک قائم ہو چکی ہیں۔اس کے بعد اب ان پر روشنی نور محبت الہی عشق رسول اور فدائیت کے جذبہ کے مینار بلند پر قائم ہونے کا وقت آ گیا ہے۔اب ہمیں مناسب تیزی کے ساتھ کام کرنا چاہئے تا ہم آخری اور شاندار کامیابی حاصل کریں اور اللہ تعالیٰ کا وہ فضل جو جماعت کی ترقی کی راہ پر ایک خاص مقام پر نازل ہوتا ہے وہ ہماری زندگی میں اور جلد تر ہمارے سامنے آجائے۔مجلس کا کم سے کم معیار پس میں اس وقت اپنے نوجوان بھائیوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ نو جوان جو اس وقت میرے سامنے بیٹھے ہوئے ہیں۔چاہے وہ مرکزی عہدیدار ہیں کہ ان پر ساری مجالس کی نگرانی کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے یا علاقائی اور ضلعی عہد یدار ہیں کہ ان پر علاقائی اور ضلعی منصوبوں کو پورا کرنا فرض ہے۔آپ میں سے کوئی شخص اس وقت تک خوش نہیں ہو سکتا (اگر اس خوشی کے معنی حقیقی طور پر خدا تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنے کے لئے جائیں) جب تک آپ کے ماتحت یا آپ کے علاقہ یا آپ کے ضلع میں ایک مجلس بھی ایسی ہے جو کم سے کم معیار پر نہیں آئی اگر آپ اس بات سے تسلی پکڑ لیں کہ ہم چونکہ نسبتاً اچھا کام کر کے علم انعامی حاصل کر لیتے ہیں اس لئے ہم اچھا کام کرنے والے ہیں تو یہ غلطی ہوگی۔اگر مثلاً آج میں یہ اعلان کر دوں کہ آئندہ صرف اس قیادت کو علم انعامی دیا جائے گا