مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 560
فرموده ۱۹۸۱ء 560 د و مشعل راه جلد دوم پہلے سے کیا ہوا تھا۔جب مجھ سے پوچھا گیا کہ یہاں مکان مل سکتا ہے تو میں نے تحریک جدید سے یہ سوال کیا کہ آپ اس کی ادائیگی کہاں سے کریں گے؟ میرے خیال میں دو لاکھ ستر یا اسی ہزار ڈالر کا وہ مکان ہے جس کا مطلب ہے قریباً تمیں لاکھ روپے کا تو انہوں نے مجھے کہا کہ پاکستان سے باہر مشرقی ممالک میں ہماری ایک جماعت ہے اس جماعت نے کہا ہے کہ ہم ایک لاکھ ڈالر وہاں بھیجوا دیں گے اور میرے لئے حیرت کے بات یہ تھی کہ اوّل: ان کے پاس یہ ایک لاکھ ڈالر جمع کیسے رہا؟ دوسرے یہ کہ وہاں بھی اقتصادی حالات ایسے ہیں کہ بڑا مشکل تھا ان کے لئے فارن اینج کی اجازت لے کر ایک لاکھ ڈالر اپنے ملک سے باہر بھجوانا۔انہوں نے کہا ہمیں اجازت بھی مل جائے گی اور ہم بھجوا بھی دیں گے۔اور باقی جو رہ جاتا ہے ایک لاکھ ستر اسی ہزار وہ امریکہ اور مغربی جرمنی کے پاس پیسے پڑے تھے، انہوں نے کہا پیسوں کی کوئی فکر نہیں ہے۔آپ اجازت دیں میں نے سوچا۔میں نے دعا کی پھر جب میرا انشراح ہو گیا پانچ دس دن کے بعد تو میں نے انہیں اجازت دے دی۔اس وقت تک وہ مکان جو مرزا مبارک احمد صاحب نے پہلے دیکھا تھا وہ بک چکا تھا۔لیکن اس سے نسبتاً بہتر مکان چند ہزار ڈالر کی زیادتی کے ساتھ ہمیں اسی علاقے میں مل گیا۔قرطبہ میں مسجد کی بنیاد دوسری ہماری بڑی خوش قسمتی یہ ہے کہ قرطبہ ایک صوبہ ہے پین کا۔قریباً ۴۵ ۷ سال قبل مسلمانوں نے خدا تعالیٰ کو بھولنے کے نتیجہ میں عیسائیوں سے شکست کھائی اور یہ صوبہ عیسائیوں کے پاس چلا گیا۔اور ۴۵ ۷ سال تک وہاں کوئی مسجد نہیں بنائی گئی۔پچھلے سال میں نے اس صوبہ میں مسجد کی بنیاد رکھی۔اللہ تعالیٰ نے وہاں زمین خریدنے کا انتظام کر دیا۔اللہ تعالیٰ نے یہ انتظام کر دیا کہ حکومت وقت نے ہمیں وہاں مسجد بنانے کی اجازت دے دی اور اللہ تعالیٰ نے یہ اتفاق بھی پیدا کر دیا کہ وہاں ایک چھوٹے سے قصبہ کے میئر کہنے لگے کہ حکومت وقت نے جو مذہبی آزادی کا اعلان کیا اس کے بعد آپ پہلی جماعت ہیں جن کو توفیق ملی ہے اس ملک میں مسجد بنانے کی۔یعنی اس آزادی کے اعلان کے بعد اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے ہمیں توفیق عطا کر دی اور اب اس مسجد کی تعمیر قریباً مکمل ہو چکی ہے۔صرف میناروں کے اوپر کے حصے تیار ہونے والے رہتے ہیں۔باقی بلڈنگ پوری تیار ہوگئی ہے۔فرش ہوگئے ، بجلی لگ گئی۔پلستر ہو گئے۔غسل خانے اور باورچی خانے ہیں وہاں دو ان کے اندرفٹنگز (Fittings) ہو گئیں۔صرف مینار بنے رہ گئے اس میں۔اس واسطے دیر ہوئی کہ انہوں نے پہلے جو ڈیزائن بنایا تھا اس کو بدلنا چاہتے تھے۔میں نے انہیں کہا تھا مجھ سے پوچھے بغیر نقشہ نہیں بدلنا۔اس پر کچھ وقت لگا۔اب مجھے اطلاع ملی ہے کہ پتھر کا جو مینار بنارہے ہیں وہ قادیان کے مینارہ کا عکس ہے۔میں نے انہیں ہدایت دی تھی اگر بیس فٹ اونچا مینار ہے تو میں فٹ میرے بھیجے ہوئے نقشہ کے مطابق بناؤ۔اس کے مطابق وہ بن رہے ہیں مینار اور جیسا کہ میں نے پہلے کہا تھا ( بہت سے آپ میں سے بھول گئے ہوں گے دہرا دیتا ہوں ) اس زمین