مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 524
د مشعل راه جلد دوم فرموده ۱۹۷۹ء 524 بھی کڑواہٹیں برداشت کیں۔پھر دوبارہ بجلی کی روآ جانے پر فرمایا ) روس میں اور دوسرے کمیونسٹ ممالک میں تمہاری عمر کے بچوں پر یہ زور لگایا جاتا ہے کہ وہ خدا سے دور ہو جائیں اور اس کا نتیجہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی نعمتوں کی بھاری اکثریت سے وہ محروم ہو جاتے ہیں۔کیونکہ خدا تعالیٰ نے نعمتیں دو قسم کی دی ہیں۔ظاهرة وباطنة قرآن کریم نے کہا ہے ایک ظاہری نعمتیں ہیں۔اچھی غذا ہے، متوازن غذا ہے۔دودھ ہے جو ہر بچے کو پینا چاہیے اور نہیں ملتا ہے چاروں کو۔اور لحمیات ہیں۔لوگوں کو پتہ ہی نہیں کہ متوازن غذا کسے کہتے ہیں۔لیکن قرآن کریم نے اس کا ذکر کیا ہے۔ایک تو یہ ہے (۲) پھر سردی گرمی سے بچنے کیلئے لباس ہے گھر ہے (۳) اگر انسان اپنی غلطی سے بیمار ہو جائے تو خدا تعالیٰ نے اسے شفا دینے کیلئے دوائیں بنائی ہیں۔خدا تعالیٰ نے دعا کا نظام جاری کیا ہے۔دوا کے ساتھ دعا کرو تو جلدی شفا ہو جاتی ہے۔ہمارے ڈاکٹر جو افریقہ میں گئے ہیں ان کو اتنی شہرت ملی خدا کے فضل سے کہ ان کے مریض جن کے متعلق یورپ کے ڈاکٹروں نے کہہ دیا تھا کہ لاعلاج ہیں اور ان کا آپریشن ہو ہی نہیں سکتا۔احمدی ڈاکٹر نے آپریشن کیا اور وہ کامیاب ہوا اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہمسایہ ممالک جہاں ہمارے ہسپتال نہیں وہاں کے بڑے بڑے امیر لوگوں نے ہمارے ہسپتالوں میں (جہاں ہسپتال ہیں وہاں آکے علاج کروانا شروع کر دیا تو یہ ممالک جو بچے کے ذہن سے خدا کی یاد مٹانے کی کوشش کرتے ہیں وہ بھی بچے پر ظلم کر رہے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی یہ نعمت کہ وہ بیمار ہوتو دعا سے اس کی تکلیف جلدی دور ہو جائے۔اس سے اس کو محروم کر دیا اور جب دنیا کا سہارا کوئی نہ ہو اللہ کے منکر وایا تو سہارا بنو خدا کی جگہ اور وہ تو طاقت ہی نہیں ) تو جب دنیا کے سارے سہارے ٹوٹ جاتے ہیں اور کسی جگہ روشنی نظر نہیں آتی اس وقت خدا آتا ہے اور کہتا ہے میں تیرا خدا ہوں۔تجھے گھبراہٹ کی کیا ضرورت ہے۔پھر یہ تو اس دنیا کی ہوئی نا بات۔پھر انسان نے مرنا ہے، اس کی روح زندہ رہے گی اور یہ دنیا جو ہے یہ میں سال چالیس سال پچاس سال (اگر بچپن میں نہ بھی کوئی مرے لمبی عمر پائے ) ۶۰ سال، ۷ سال کوئی اکا دکا سو ایک سو دس ، ایک سو بیس سال تک۔اکثر سو سال کے اندر اندر مر جاتے ہیں۔لیکن روح زندہ ہے اور وہ جنت میں جائے گی نہ ختم ہونے والی زندگی۔اور خدا تعالیٰ کے خاص فضل اور رحمت سے یہ جنت کی نعمتیں ہیں۔اللہ کی رضا کی جنتوں میں جوا سے ملیں گی۔تو یہ ممالک جو ہیں بچوں کو خدا تعالیٰ کی اتنی عظیم اور نہ ختم ہونے والی نعمتوں سے محروم کر رہے ہیں۔یہ بھی بچے ہیں دنیا میں۔تو شکر کر خدا کا اور احمد پڑھو کہ تم وہ بچے نہیں ہو جن کے دماغوں سے خدا تعالیٰ کا نام مٹایا جارہا ہے بلکہ تم وہ بچے ہو جن کی زندگیوں میں خدا تعالیٰ کی زندہ قدرتوں کے جلوے ظاہر ہوتے ہیں اور تم خود بھی گواہ ہو اس کے اور تمہارے بڑے بھی گواہ ہیں کہ خدا تعالیٰ غیب کی باتیں جانتا ہے۔یہ سو سالہ زندگی بھی اگر ہو تو کیا زندگی ہے۔اس کے بعد جہنم میں چلا جائے، خدا کی خفگی اور اس کا قہر نازل ہورہا ہو۔اور ایک طرف جنتی ہیں جن کے متعلق کہا گیا ہے کہ وہ صرف نیکی ہی کی خواہشیں کریں گے اور ہر خواہش ان کی پوری ہو جائے گی۔اس دنیا میں تو کوئی نیک سے نیک آدمی بھی نہیں جس کی ہر خواہش پوری ہو۔ہو ہی نہیں سکتی لیکن وہ ایسی زندگی ہے اتنی بڑی