مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 517 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 517

517 فرموده ۱۹۷۹ء دد دو مشعل راه جلد دوم متوازن اور طیب غذا ملے ہر انسان کو۔اس کی تفصیل میں میں نہیں جاؤں گا۔اتنا کافی ہے کہ متوازن طبیب غذا ملے ہر ایک کو۔متوازن طبیب غذا کو ہضم کرنے کیلئے جس قسم کی اُس فرد واحد کو ورزش کی ضرورت ہے اس کا سامان پیدا کیا جائے۔وہ بھی پیسہ مانگ رہا ہے۔پھر اس صحت مند جسم سے نوع انسانی جوفائدہ اٹھا سکتی ہے اس مقام پر ہر فرد کو رکھا جائے تا کہ وہ دوسرے انسانوں کا خادم بن کر ان کی خدمت میں لگا رہے اور ان کے فائدے کے کام کرنے والا ہو۔پھر ذہن ہے ذہنی قوت اور استعداد کا نشو ونما اور اس کو صحت مند رکھنا یہ اور چیز ہے مثلاً جو ذہین افراد ہیں ان کے اور جو پہلوان ہیں ان کے کھانوں میں فرق ہے۔بڑا ز بر دست فرق ہے۔جس قسم کے پہلو ان کے جسم کو کھانے چاہئیں۔اس سے بالکل مختلف کھانے ایک ذہین دماغ کو چاہئیں۔اور اس کے نہ سمجھنے کی وجہ سے (طب کی تحقیق کی رو سے بیماریاں پیدا ہو جاتی ہیں۔بڑی مہارت کے ساتھ غذاؤں کا انتخاب کرنا پڑتا ہے اللہ تعالیٰ نے ایسے دماغ پیدا کئے ہیں جو اس فن میں یعنی غذاؤں کے علم میں طبی مہارت حاصل کر سکیں ایسے دماغوں سے کام لینا چاہئے۔پھر اسلام کے اخلاقی اقدار میں وہ چاہئیں ہمیں ایسے مومن بندے چاہئیں جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق زار ہوں کیونکہ اخلاق کا معلم نوع انسانی کیلئے بعثت نبوی کے بعد سوائے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اور کوئی نہیں اور وہ عشاق محمد بتا ئیں دنیا کو کہ اسلامی اقدار کیا ہیں۔وہ بتا ئیں دنیا کو کہ وہ شہر۔رؤسائے مکہ جہاں بستے تھے جنہوں نے اڑھائی سال تک محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب متبعین کو بھوکا مارنے کی کوشش کی تھی۔ہجرت کے بعد مدینہ میں جب ان رؤساء کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو پیغام ملا کہ کیا اپنے بھائیوں کو بھوکا مارو گے؟ رؤساء مکہ کو خدا تعالیٰ نے سبق دینے کیلئے وہاں قحط کے آثار پیدا کئے اسی وقت آپ نے حکم دے دیا کہ ان کو راشن بھجوانے کا انتظام کرو تو یہ جو اخلاقی اقدار اسلام کے ہیں یہ دنیا میں وہی قائم کر سکتا ہے۔اسلامی تعلیم کے مطابق جو اسوۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرنے والا ہو۔میرا مطلب ان اسلامی اقدار سے ہے جو فطرت انسانی کا حصہ ہیں اور سارے اسلامی اقدار فطرت انسانی کا حصہ ہیں اس واسطے کوئی مسلمان ہے یا نہیں ہے وہ اس دائرہ کے اندر آ جاتا ہے اور ان کو اس دائرہ کے اندر لانا چاہئے۔نیز فرما یاؤ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا ليَعْبُدُونِ (الذاریات: ۵۷) روحانی لحاظ سے ہر فرد کا یہ حق ہے کہ روحانی رفعتوں کے حصول کی جو قوت اور استعدادا سے خدا تعالیٰ نے دی تھی اس کے مطابق اس کی پرورش کی جائے یہ اس کا حق ہے اور اس کے لئے مثلاً کتابوں کی اشاعت کی ضرورت ہے۔واقفین کی ضرورت ہے۔ہر ہر قدم جو ہے وہ پیسہ مانگتا ہے۔خود نگی اٹھا کے دین اسلام کی خدمت۔قربانی کا مطالبہ کرتی ہے۔اس کے لئے احمدی ذہن کو تیار ہونا چاہئے۔پھر جذبات کے حقوق ہیں (میں چند مثالیں دوں گا) اس قدر خیال رکھا ہے جذبات کا کہ مشرک جو سب سے بڑا گناہ کرنے والا۔