مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 516 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 516

فرموده ۱۹۷۹ء 516 د دمشعل راه نعل راه جلد دوم بیڑہ اٹھائے۔اور اس کے لئے اپنی نوجوان نسل کو اور اپنے اطفال کو تیار کرے اور ان کے ذہن میں بار بار یہ بات ڈالے کہ تمہارے اوپر یہ ذمہ داری ہے۔دوسرے کے حقوق تم نے ادا کرنے ہیں اور اسی طرح بار بارسنیں گے جب بڑے ہونگے سوچیں گے بات ان کی عقل میں آئے گی کہ جو باتیں ہمیں کہی جارہی ہیں اس کی ضرورت ہے تو ایک نیک تبدیلی آہستہ آہستہ جو پیدا ہو رہی ہے۔اس سے سارے متاثر ہوں گے۔پھر صداقت جس کو جہاں نظر آئے گی وہ قبول کرے گا اسے۔اسلام نے یہ کہا ہے کہ ہر شخص کا حق ہے خواہ اس کا عقیدہ کچھ ہی ہو خواہ وہ خدا تعالیٰ کے وجود سے منکر ہو اس کا یہ حق ہے کہ اس کا معاشرہ گندگی سے پاک ہو۔شرافت ہی شرافت ہو حسن عمل ہو۔جہاں زبان کی مٹھاس ہو جہاں فکر و تدبر میں عظمت ہو جہاں محبت اور پیار کی فضا ہو۔پھر روحانیت ہے ( ہر شخص کے حقوق میں بتارہا ہوں) روحانی لحاظ سے ہر شخص کا یہ حق ہے کہ وہ اپنی روحانی طاقتوں کو نشوونما کے کمال تک پہنچائے اور انسان کی روحانی طاقتوں کی نشو ونما کا کمال یہ ہے کہ اس کا اپنے پیدا کرنے والے رب کریم سے ایک زندہ تعلق پیدا ہو جائے اور وہ اس کے پیار کے جلوے اپنی زندگی میں دیکھنے لگے اور اس کی پیاری اور میٹھی آواز اس کے کان سنیں اور اس کے وجود کے اندر ایک انقلاب عظیم بپا کر دیں اور اس کی ہئیت بدل دیں اور اس کے وجود کے سارے گندوں کو جلا کے خدا کے قدموں میں اس کو لا کھڑا کریں اور نوع انسانی کا بہترین خادم بن جائے وہ۔تو میں بتا یہ رہا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے اسلام میں ہر فرد واحد کے حقوق قائم کئے ہیں کہ جسمانی حقوق غذا کے لحاظ سے، کپڑے کے لحاظ سے طبی امداد کے لحاظ سے Shelter شیلٹر کے لحاظ سے کہ گرمی سردی بارش اور دھوپ اسے تکلیف نہ دے اور یہ سارے حقوق اس کے پورے کئے جائیں اور پھر ذہنی حقوق ہیں۔ذہنی لحاظ سے ہر بچے کی اگر پرورش کرتی نوع انسانی تو اس وقت تک دنیا میں جتنے سائنسدان ہیں جن کی تحقیق اور جن کی لگن نے اور جن کے دل کے اس جذبہ نے کہ وہ خادمِ انسانیت بنیں انسان کو جہاں تک اس وقت پہنچایا ہے اس سے ہزار گنا زیادہ علمی فضا کی رفعتوں میں انسان پہنچ چکا ہوتا لیکن یہ بدقسمتی ہے انسان کی کہ ابھی تک خدا تعالیٰ نے جو ہ تعلیم دی کہ ہر شخص کو اس کا حق دیا جائے وہ اس تعلیم کو سمجھا نہیں اور اگر ایک بچے کو یہ حق ملا اورتعلیمی میدان میں اس نے ترقیات کے مدارج طے کئے وہاں نو ایسے تھے یا شاید نانوے ایسے تھے کہ جن کو وہ حق نہیں ملا اور وہ جو اپنے روشن ذہن اور دینی استعداد سے نوع انسانی کی خدمت کر سکتا تھا اس سے صرف وہی نہیں بلکہ نوع انسانی بھی محروم ہو گئی۔اچھے اخلاق پیار کی فضا پیدا کرنا تو بہر حال معاشرے سے متعلق ہے یعنی اجتماعی زندگی سے اس کا بہت بڑا تعلق ہے۔روحانیت کا بھی اس سے تعلق ہے لیکن روحانیت کا ایک بڑا حصہ پوشیدہ ہے۔ایک حصہ ظاہر بھی ہے جونمو نہ بنتا ہے دوسرے کیلئے۔ان چاروں (یعنی جسمانی، ذہنی، اخلاقی ، روحانی قوتوں میں سے ہر ایک دولت کا مطالبہ کر رہی ہے۔مثلاً