مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 457
457 فرمودہ ۱۹۷۷ء د مشعل راه جلد دوم۔پس زیادہ بہتر اور مناسب یہی ہے کہ مانا جائے کہ اس حدیث میں ہر صدی کے سر پر ایسے بزرگوں کی ایک جماعت موجود ہونے کی طرف اشارہ ہے جو لوگوں کیلئے دین کو تازہ کریں گے اور تمام دنیا میں اس کی حفاظت کریں گے۔علماء کے ایک گروہ نے یہ لکھا ہے کہ یہ ذمہ داری تو ساری امت کی تھی یعنی امت مسلمہ کے ہر فرد کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ دین اسلام کی تجدید کرے۔جس طرح ہم آپ کو کہتے ہیں کہ آپ دین سیکھیں اور اس کو ساری دنیا میں پھیلائیں لیکن چونکہ سارے نہیں کرتے اس لئے ہر صدی میں ایک جماعت پیدا ہو جاتی ہے جو فرض کفایہ کے طور پر یہ کام کرتی ہے۔کیونکہ وہ جماعت کام کرتی ہے اس لئے کہ جو نہیں کام کرتا اللہ تعالیٰ ان کے گناہ معاف کر دیتا ہے اور اگر یہ بھی کام نہ کریں تو ان کے گناہ بھی معاف نہیں ہوں گے۔پس حدیث شریف میں کسی ایک کے آنے کا ذکر نہیں نہ لغوی معنوں کے لحاظ سے اور نہ جو پہلے علماء تھے جن کے چند حوالے میں نے پڑھے ہیں ان کے اقوال کے مطابق اور نہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو اس کی تفسیر کی ہے اس کے مطابق۔میں پہلے بھی بتا چکا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے میرے مسیح ہونے کے متعلق اتنی کثرت سے احادیث پائی جاتی ہیں کہ ان کی تعداد ہزاروں تک جاپہنچتی ہے۔پھر میں نے یہ بھی بتایا ہے کہ حضرت مسیح اور مہدی علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق نشانات بتائے گئے ہیں مثلاً قرآن کریم میں ہے کہ مسیح کے زمانہ میں کتابیں شائع کرنے کیلئے پر یس نکلیں گے۔کتابوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے کا سامان پیدا ہو جائے گا۔جماعت احمدیہ کے کسی مبلغ کو افریقہ بھیجنا ناممکنات میں سے نہیں ہوگا بلکہ ذرائع آمد ورفت اتنے ترقی کر چکے ہوں گے کہ جہاں انسان سالوں میں نہیں پہنچ سکتا تھا وہاں گھنٹوں میں پہنچ جائے گا۔یہاں سے انگلستان کی ساری اُڑان بمشکل نو دس گھنٹے کی ہے۔اسی طرح ہمارے مبلغ جو افریقہ جاتے ہیں ہوائی جہازوں کے ذریعہ ان کے اصل اڑنے کا وقت ۱۰۔گھنٹے ہے۔بیچ میں ہوائی جہاز ٹھہر جاتا ہے اور کچھ زیادہ وقت لے لیتا ہے۔اب ایک ہفتے میں لوگ قریباً تین دفعہ ساری دنیا کا چکر لگا لیتے ہیں۔ہمارے مسلمان سیاح کو علم کے حصول کیلئے آدھی دنیا میں جانا ہوتا تھا تو وہ ساری عمر کیلئے گھر والوں کو الوداع کہہ کر نکلتا تھا۔لیکن اب ایک جگہ سے دوسری جگہ اور ایک ملک سے دوسرے ملک جانے کیلئے ہوائی جہازوں کی سہولتیں میسر ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں ایک بنیادی اصول بتایا ہے اور وہ یہ کہ حدیث یعنی وہ ارشاد جو نبی کریم اللہ کی زبان سے نکلا اور پھر اسے روایہ محفوظ کیا گیا۔وہ ذرہ بھر بھی نہ قرآن پر کوئی چیز زائد کرتا ہے اور نہ کم کرتا ہے۔اس اصول کو تم اچھی طرح سے سمجھ لو اور ذہن میں رکھو۔اب ہم قرآن کریم کو دیکھتے ہیں تو اس کے شروع سے آخر تک گویا سارے قرآن میں تجدید دین یا مجدد کا کوئی لفظ نہیں ملتا۔تب ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو دوسری بات بتائی اس کے مطابق غور کرنا پڑے گا۔آپ نے فرمایا نبی کریم اللہ نے جو بھی فرمایا ہے وہ قرآن کریم کی کسی نہ کسی آیت کی تفسیر ہے۔پھر آپ ے یہ فرمایا کہ محمد ﷺ کا بڑا ارفع اور بلند مقام تھا۔خدا تعالیٰ سے آپ معلم سیکھتے تھے۔یہ تو ہم مانتے ہیں کہ آپ قرآن کریم کی کسی آیت کی اتنی دقیق تفسیر کر جائیں صلى الله