مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 456
دومشعل تل راه جلد دوم فرمودہ ۱۹۷۷ء 456 جب ہم پہلے بزرگ محققین اور اولیاء اللہ کے اقوال کو دیکھتے ہیں تو نظر آتا ہے کہ انہوں نے بھی من کے وہی معنے کئے ہیں جو میں اوپر بتا چکا ہوں۔مسن يجدد کے متعلق امام المناوی فرماتے ہیں کہ اس میں من سے مراد ایک یا ایک سے زیادہ آدمی ہو سکتے ہیں۔علامہ ابن کثیر کہتے ہیں کہ ہر ایک قوم کا دعوی ہے کہ اس حدیث سے اس کا امام ہی مراد ہے لیکن ظاہر بات یہی ہے کہ اس کو ہر ایک گروہ کے علماء پر چسپاں کیا جانا چاہیے۔اور علقمی کہتے ہیں کہ تجدید سے مراد یہ ہے کہ اسلام کی جن باتوں پر عمل مٹ گیا ہے ان کو وہ از سر نو زندہ کرے اور وہ کہتے ہیں کہ خوب یاد رکھو مجدد کوئی دعوئی نہیں کرتا بلکہ اس کا علم لوگوں کو بعض قرائن اور حالات اور ان کی خدمات سے ہوتا ہے جو وہ اسلام کی کرتا ہے۔شیخ محمد طاہر گجراتی (۱۵۰۹-۱۵۷۸) جو سولہویں صدیں میں ایک بہت بڑے عالم گزرے ہیں انہوں نے اس حدیث پر یہ نوٹ دیا ہے کہ اس کے مفہوم کے متعلق اتفاق ہی نہیں۔علماء نے اختلاف کیا ہے۔یعنی اس بات میں اختلاف کیا ہے کہ کون مجد د تھا کس صدی کا اور کون نہیں تھا اور ان میں سے ہر ایک فرقہ نے اسے اپنے امام پر چسپاں کیا ہے مگر بہتر یہ ہے کہ اسے عام مفہوم پر محمول کیا جائے اور فقہاء سے مخصوص نہ کیا جائے کیونکہ مسلمانوں کو اولی الامر یعنی جو بادشاہ ہیں اور جو محدث ہیں اور جو قراء ہیں اور جو وعظ ہیں اور جو زاہد ہیں ان سب سے بہت فائدہ حاصل ہوتا ہے اس لئے وہ سارے مجدد ہیں اور حدیث سے مراد یہ ہے کہ ہر صدی جب گزرے گی تو یہ لوگ زندہ ہوں گے۔یہ نہیں کہ کوئی صدی ان کا نام ونشان مٹاڈالے اور حدیث میں اس کے متعلق اشارہ ہے۔وہ لکھتے ہیں کہ حدیث میں یہ اشارہ ہے کہ جو لوگ ہر صدی کے سر پر تجدید کا کام کریں گے وہ بڑے بڑے بزرگوں کی ایک جماعت ہوگی۔چنانچہ پہلی صدی میں حضرت عمر بن عبد العزیز اور فقہاء اور محدثین اور ان کے علاوہ دوسرے طبقات میں سے بھی بے شمار بزرگ تجدید دین کرنے والے ہیں و غيرهم مالا يحصى یعنی جن کو گنا نہیں جاسکتا اتنے مسجد دصدی کے سر پر حضرت عمر بن عبد العزیز کے ساتھ انہوں نے جمع کر دیئے ہیں۔اسی طرح انہوں نے جتنے ان کو یاد تھے ہر صدی کے سر پر ایک سے زیادہ علماء ان کا ذکر کر دیا ہے۔ایک اور کتاب ہے درجات مرقاۃ الصعود الی سنن ابی داؤد “ اس میں ابو داؤد کی مذکورہ حدیث کے حاشیہ میں لکھا ہے کہ انسب یہ ہے کہ حدیث کو عام مفہوم پر چسپاں کیا جائے۔پس اس سے لازم آتا ہے کہ جو صدی کے سر پر مبعوث ہو وہ ایک فرد نہ ہو بلکہ ہو سکتا ہے ایک یا ایک سے زائد ہوں کیونکہ گوامت اسلام کو فقہاء سے جو فائدہ پہنچتا ہے وہ بھی عام ہے لیکن اسے جو فائدہ ان کے علاوہ اولی الامر اور محدثین اور قراء اور واعظوں اور زیاد کے مختلف درجات سے پہنچتا ہے وہ بھی بہت زیادہ ہے۔کیونکہ ہر فن اور علم کا ایک فائدہ ہے جو دوسرے سے حاصل نہیں ہوتا۔دراصل حفاظت دین میں قانون سیاست کی حفاظت اور ادب کا پھیلانا بہت اہم ہے کیونکہ اسی سے انسان کے خوف کی حفاظت ہوتی ہے اور قانون شرعی قائم ہوتا ہے اور یہ کام حکام کا ہے۔پس جو قانون شریعت نافذ کرنے والے حکام ہیں شیخ محمدطاہر گجراتی کے نزدیک وہ اسی طرح مجدد ہیں جیسے ایک فقیہ مجدد ہوتا ہے یا جیسے صوفی بزرگ اور دعا گو لوگ مجدد ہیں۔