مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 452 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 452

دومشعل راه جلد دوم فرمودہ ۱۹۷۷ء 452 علیہ السلام جو حضرت موسی کی امت کے مسیح اور خدا تعالیٰ کے ایک پیارے بندے تھے وہ خدا کے ایک رسول تھے۔وہ ایک نہایت عاجز بندے تھے اور انہوں نے اپنی زندگی میں عاجزانہ راہیں اختیار کی ہوئی تھیں ان کو خدا بنا لینا یا خدا کا بیٹا تصور کر لینا بڑا ظلم ہے انسان کا اپنے اوپر اور دوسرے انسانوں پر بھی۔عیسائیوں نے بڑا شور مچایا اور بہت بڑے بڑے دعوے کئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام کے دعوے سے معا پہلے کے جو پندرہ بیس سال ہیں وہ عیسائی پادریوں کے سال تھے۔اس زمانے میں جانتے ہو؟ انہوں نے کیا کیا دعوے کئے تھے انہوں نے یہ دعوے کئے تھے کہ عنقریب وہ وقت آنے والا ہے (نعوذ باللہ ) جب خداوند یسوع مسیح کا جھنڈا مکہ اور مدینہ پر لہرائے گا عنقریب وہ وقت آنے والا ہے جب افریقہ کا بر اعظم خداوند یسوع مسیح کی جھولی میں ہوگا۔انہوں نے یہ دعوی بھی کیا کہ ہندوستان کے رہنے والوں میں سے (اس وقت ہندوستان کی تقسیم نہیں ہوئی تھی ) اگر کسی کے دل میں کبھی یہ خواہش پیدا ہوئی کہ وہ کسی ایک مسلمان کا چہرہ دیکھ لے مرنے سے پہلے تو ایک مسلمان بھی نہیں ہوگا ہندوستان میں جس کا چہرہ دیکھ کر وہ اپنی یہ خواہش پوری کر سکے۔پس اس قسم کے دعوے تھے جو عیسائی پادری کر رہے تھے تب خدا تعالیٰ نے غلبہ اسلام کی خاطر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو کھڑا کیا اور فرمایا میں تیرے ساتھ ہوں تو اکیلا ہے تو کیا ہوا میری مدد تیرے شامل حال رہے گی۔اُٹھ اور غلبہ اسلام کے لئے کام کر۔تب آپ نے وہ گوشہ تنہائی چھوڑا جس میں دنیا سے چھپ کر اپنے رب کریم کی عبادت میں آپ مشغول رہا کرتے تھے اور اسی میں خوش تھے اور وہاں سے نکلنا نہیں چاہتے تھے۔لیکن خدا نے فرمایا میں تجھے کہ رہا ہوں اُٹھ اور دینِ اسلام کی خدمت کر۔چنانچہ مخالفین اسلام خواہ وہ عیسائی ہوں یا دوسرے مذاہب یا از مز (ISMS) یا سکول آف تھاٹ (Schools of Thought) کے ساتھ ان کا تعلق ہو ان کے مقابلہ میں خدا نے آپ کو ایسے دلائل سکھائے کہ آپ نے مخالفین اسلام کا منہ بند کر دیا اور اب یہ حال ہے کہ جماعت احمدیہ کے لٹریچر کے مقابلہ میں وہ کسی احمدی سے بات نہیں کرتے بڑے بڑے پادریوں نے بہت سارے علاقوں میں عیسائیوں کو یہ ہدایتیں دی ہوئی ہیں کہ کسی احمدی بچے تک سے خواہ وہ ساتو میں آٹھویں کا طالب علم ہی کیوں نہ ہو اس سے بھی بحث نہ کرو اور نہ کوئی کتاب لے کر پڑھو۔حضرت مسیح موعو علیہ الصلوۃ السلام نے فرمایا کہ خدا نے مجھے بتایا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام صلیب پر نہیں مرے۔آپ نے اپنی کتاب "مسیح ہندوستان میں اور اس کے علاوہ اور بھی کئی کتب میں لکھا کہ حضرت مسیح افغانستان کے راستے کشمیر گئے اور وہاں وہ فوت ہوئے۔یوز آسف شہزادہ نبی نام سے وہاں وہ پکارے گئے اور وہاں وہ دفن ہیں۔ان کی قبر اب تک موجود ہے۔عیسائیوں نے اس پر ہنسی اڑائی تمسخر کیا۔وہ سمجھتے تھے ایک چھوٹے سے قصبے میں رہنے والا شخص ان کا کیا بگاڑ لے گا۔مگر اس مدعی کے پیچھے خدا تعالیٰ کی جو طاقت کام کر رہی تھی ان کی دنیوی نگا ہیں اس طاقت کو نہیں دیکھ رہی تھیں۔آپ نے فرمایا کہ خدا تعالیٰ نے مجھے اپنے الہام سے جو باتیں بتائی ہیں یہی لوگ جوہنسی اور ٹھٹھا کر رہے ہیں اور اسلام کی دشمنی پر کمر بستہ ہیں، خود تحقیق کریں گے اور جو میں نے باتیں بتائی ہیں ان کے دلائل اکٹھے کریں