مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 42
فرمودہ ۱۹۶۷ء 42 د دمشعل را تل راه جلد دوم دوڑے آتے اور آپ کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر آپ پر ایمان لاتے تو دنیا میں وہ عظیم انقلاب پیدا ہوجاتا جو اللہ تعالیٰ اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ پیدا کرنا چاہتا تھا اور اسلام کو دوسرے ادیان پر غالب کرنے کے لئے جو جد و جہد جماعت احمد یہ کر رہی ہے اس میں وہ شریک ہوتے اور اللہ تعالیٰ کی برکتوں سے حصہ لیتے لیکن کوئی فرقہ سارے کا سارا حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ایمان نہیں لا یا بلکہ ایک فرقہ سے چند اور دوسرے فرقہ سے چندا حمدیت میں داخل ہوئے اور داخل ہورہے ہیں۔صحابہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی قربانیاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ نے بڑی قربانیاں کی ہیں اور ان کے بعد جو ان کے تابعین ہیں وہ بھی بڑی قربانی کر رہے ہیں۔ان کے بعد آپ کی نسل آئے گی۔آپ کو ان قربانیوں کے لئے تیار کرنا جماعت کے نظام کا کام ہے اور اس کے لئے کوشش کی جارہی ہے۔ہر سال ایک تربیتی کلاس منعقد کی جاتی ہے اور آپ کو اس میں بلایا جاتا ہے اور ایک اور پروگرام بھی ہے جو میں عنقریب جماعت کے سامنے رکھنے والا ہوں۔آپ کی نسل یعنی تبع تابعین کو سنبھالنا۔ان کو دین کا علم سکھانا ان کے اندر قربانی کا جذبہ پیدا کرنا۔ان کے دلوں میں خدا تعالیٰ کا عشق اور رسول کریم علی اللہ کی محبت پیدا کرنا بڑا ہی ضروری ہے۔اس کے بغیر جماعت اس مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکتی جس کے لئے یہ اس زمانہ میں قائم کی گئی ہے اور یہ بات اس لئے بھی ضروری ہے کہ جماعت اس وقت اپنی تاریخ کے اس دور میں سے گزر رہی ہے جس میں ہم اپنے رب سے یہ امید رکھتے ہیں کہ وہ اپنے وعدوں کے مطابق اس کو ترقی دے گا۔اب آج اگر لاکھوں انسان احمدیت میں داخل ہوں تو ان کو پڑھانے کے لئے ہمیں ہزاروں کی تعداد میں استاد چاہئیں۔ہمیں ایسے نوجوان اور بڑی عمر کے افراد چاہئیں جن کا علم کافی حد تک مکمل ہو اور وہ اس قابل ہوں کہ انہیں علمی اور عملی میدان میں سنبھال سکیں۔پہلے علم کمزور ہوتا ہے۔پھر عمل میں رخنہ پیدا ہوتا ہے۔ہر وہ بات جس کے خلاف قرآن نے علم بلند کیا تھا اور اب وہ اسلام میں داخل ہونی شروع ہو گئی ہے۔شراب کو ہی لے لو۔اسلام میں شروع شروع میں شراب پینا منع نہیں تھا۔ہجرت کے بعد مدینہ میں یہ حکم نازل ہوا کہ اسلام میں شراب ممنوع ہوگئی ہے اور جس وقت یہ حکم نازل ہوا بہت سے لوگ شراب پی کر مدینہ میں بدمست تھے لیکن جب شراب کی حرمت کا حکم نازل ہوا تو وہ بدمستی بھی ختم ہوگئی اور شراب بھی ختم ہوگئی۔رسول کریم ﷺ کی قوت قدسیہ کے نتیجہ میں صحابہ کی اتنی تربیت ہو چکی تھی کہ ایک آواز نے شراب پینے کی عادت کو بالکل مٹادیا اور جب مسلمان قرآن کریم کو بھول گئے تو اب مغربی پاکستان میں ہی لاکھوں لوگ اسلام کی طرف منسوب ہوتے ہیں اور وہ شراب پیتے ہیں اور ان میں سے سارے کے سارے قریباً ایسے ہیں جو شراب پیتے ہیں لیکن ہمیں کا فر کہتے ہیں۔گو انہیں خود اسلام کا پتہ نہیں لیکن جو جماعت اسلام پر قائم ہے وہ ان کے نزدیک کا فر ہے اور جو خود اسلام کو عملاً اور عقید تا چھوڑ چکے ہیں وہ بڑے مسلمان ہیں۔اسی طرح