مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 442
فرمودہ ۱۹۷۷ء 442 د مشعل راه جلد دوم رمیرے دل میں پیدا نہ بلکہ میری خشیت پیدا ہو۔اور ہر وقت تمہیں یہ خوف رہے کہ تمہاری کسی غلطی کے نتیجہ میں کہیں میں تم سے ناراض نہ ہو جاؤں۔اگر یہ احساس دل میں پیدا ہو جائے۔اگر اس احساس کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ ہم سے جو تقاضا کرتا ہے وہ ہم پورا کرنے لگ جائیں۔اگر اس احساس کے نتیجہ میں ہم بنی نوع انسان کے خیر خواہ بن جائیں۔اگر ہم راتوں کو اُٹھ کر ان لوگوں کیلئے دعائیں کریں جو ہمارا نام بھی حقارت سے لیتے ہیں تو ہم اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے والے ہوں گے۔روس میں بسنے والے یا امریکہ میں رہائش پذیر ہمیں حقارت سے دیکھتے اور اپنے آپ کو بڑا سمجھتے ہیں۔لیکن وہ نادان ہیں ان کو پتہ نہیں کہ جو کچھ انہوں نے حاصل کیا ہے وہ کچھ چیز نہیں۔اور جس کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے وہ اس کے مقابلہ میں ایک عظیم چیز ہے۔لیکن ان کو بتانا ، ان کو سمجھانا، حسن اور احسان کے ذریعہ سے ان کے دلوں کو خدا اور اس کے رسول ﷺ کیلئے جیتنا یہ میرا اور آپ کا کام ہے اور ہر آنے والی نسل کا کام ہے۔غلبہ اسلام کی صدی اور اس کے لئے تیاریاں صلى الله ہم نے کچھ اندازے لگائے میرا اندازہ ہے کہ آنے والی صدی جس میں کہ اب گیارہ بارہ سال رہ گئے ہیں۔غلبہ اسلام کی صدی ہے۔اس اگلی صدی میں یعنی جماعت احمدیہ کے قیام کی دوسری صدی میں دنیا میں ایسے انقلابی حالات پیدا ہو جائیں گے کہ اب جو دنیا کہتی ہے کہ یہ کیا پاگلوں والی باتیں کرتے ہیں۔ایک اتنی سی جماعت ہے، غریب جماعت، دھتکاری ہوئی جماعت جو برسراقتدار نہیں ہے۔ساری دنیا کی طاقتیں اس کے خلاف ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ ہم نے ساری دنیا کے دل خدا اور اس کے رسول کیلئے جیت لینے ہیں۔اس دنیا کا ایک حصہ سمجھنے لگے گا کہ جو کچھ کہا گیا اس میں صداقت معلوم ہوتی ہے اور ایک حصہ تو اسلام کی گود میں آجائے گا اور محمد اے کے جھنڈے تلے جمع ہو جائے گا۔پس اگلی صدی غلبہ اسلام کی صدی ہے۔اور اس سے پہلے پہلے تیاری کا زمانہ ہے صدی کے آنے میں جو گیارہ بارہ سال رہ گئے ہیں ان میں ہمیں سب سے زیادہ تو دعاؤں کے ساتھ تیاری کرنی چاہیے دعا اس انسان کیلئے بھی کہ جو آپ کو حقارت کی نظر سے دیکھتا ہے۔دعا اس انسان کیلئے بھی کہ جو پ کی باتوں کو جوخدا نے محمد ﷺ کے طفیل آپ کو بتا ئیں سنتا ہے اور آپ کو پاگل سمجھتا ہے اور دعا اس انسان کیلئے بھی کہ جو اپنی گندی زیست میں اس طرح پھنسا ہوا ہے کہ اس کو چھوڑنے کیلئے تیار نہیں اور یہ انقلاب اب آہستہ آہستہ نظر آنے لگ گیا ہے۔جب ان لوگوں سے بات کرتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ تعلیم تو بڑی اچھی ہے لیکن اور لیکن کے آگے ان کا مطلب ہوتا ہے کہ جس زندگی میں ہم پھنس گئے ہیں اور گندی عادتیں پڑگئی ہیں۔عیش وعشرت میں ہم پڑے ہوئے ہیں اس زندگی کو چھوڑنے کیلئے ہم تیار نہیں۔تعلیم کے حسن اور خوبی کا اقرار تو بہت سے کر لیتے ہیں لیکن عملاً اس کو قبول کر کے اس کے مطابق اپنی زندگی کو ڈھال کر اپنی قوتوں اور صلاحیتوں کو صحیح طور پر نشو و نما دے کر اس انقلاب عظیم کو پیدا کرنے کی مہم کا ایک حصہ بن جانے کیلئے تیار نہیں ہوتے جو ہر لحاظ سے ایک حقیقی