مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 433 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 433

433 فرموده ۱۹۷۶ء دومشعل راه جلد دوم ربوه ۱۸، شهادت ۱۳۵۵ بهش ( ۱۸ اپریل ۱۹۷۶ء بروز اتوار ) اللہ تعالیٰ کے فضل و احسان کے ساتھ مجلس خدام الامہ یہ مرکز یہ کا بتیسواں سالانہ اجتماع شروع ہو گیا۔اجتماع کا افتتاح سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثالث کے نہایت بصیرت افروز خطاب اور اجتماعی دعا کے ساتھ ہوا۔حضور نے تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد پہلے یہ بتایا کہ خدام کا یہ اجتماع پورا اجتماع نہیں ہے کیونکہ دراصل یہ گزشتہ سال منعقد ہونا چاہیے تھا مگر اس وقت چونکہ یہ کسی غلط نہی کی وجہ سے منعقد نہ ہو سکا اس لئے اب تلافی مافات کے طور پر یہ یک روزہ اجتماع منعقد ہوا ہے۔اسی سال کے دوران اپنے وقت پر خدا تعالیٰ کے اسے پھر خدام کا سالانہ اجتماع اپنی جملہ روایات کے مطابق منعقد ہوگا۔انشاء اللہ تعالیٰ۔اس کے بعد حضور نے فرمایا نو جوان خادم کی عمر در اصل عمل کی عمر ہے۔جہاں ذہنی اعمال کیلئے ذہنی شعور و فراست کی ضرورت ہوتی ہے وہاں جسمانی عمل کیلئے جسمانی طاقت درکار ہوتی ہے۔اس وقت میں خدام کو ان کی ان ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں جن کا تعلق جسمانی طاقت سے ہے۔قرآنی اصطلاح میں اعمال مختلف قسم کے ہوتے ہیں ایک عمل صالح اور ایک عمل سدیم۔پھر اعمال صالح میں سے بھی ایسے ہوتے ہیں جو حسن عمل کی تمام رعنائیاں لئے ہوئے ہوتے ہیں۔دراصل اسلام کے نزدیک روحانی ترقیات کی کوئی انتہاء نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ اس کے نزدیک اعمال کا سلسلہ مرنے کے بعد بھی جاری رہتا ہے اور ہر لحظہ انسان قرب الہی کی طرف حرکت کرتا چلا جاتا ہے۔البتہ یہ فرق ضرور ہے کہ مرنے کے بعد امتحان کا سلسلہ ختم ہو جاتا ہے۔اس دنیا میں جو اعمال ہیں ان میں سے بعض ایسے ہوتے ہیں جو معاشرہ میں فساد، قانون شکنی اور دوسروں کے حقوق کو غصب کرنے کا موجب ہوتے ہیں۔مومن ہمیشہ ایسے اعمال سے اجتناب کرتا ہے۔وہ پہلے عمل صالح کرنے کی کوشش کرتا ہے اور پھر وہ احسن عمل یعنی بہترین اور آئیڈیل عمل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔حقوق اللہ اور حقوق العباد سے تعلق رکھنے والے بعض ظاہری اور بعض منفی اعمال کی تشریح اور ان کی حکمتیں بیان کرنے کے بعد حضور نے فرمایا حقوق العباد کی ادائیگی کا جو حصہ خاص طور پر خدام الاحمدیہ کے سپر د کیا گیا ہے اس کی طرف میں اس وقت خاص طور پر توجہ دلانا چاہتا ہوں پیش آمدہ حالات کی کوئی ایسی تلخی ہر گز تمہارے ذہنوں میں نہیں ہونی چاہیے جو تمہارے خدمت کے جذبہ میں کمی کا موجب ہوں۔ہمیں جو کا فرکہا جاتا ہے یہ ہمارے لئے کوئی نئی بات نہیں ہے۔قرآن کریم کی رو سے حقیقی مسلمان وہ ہے جو تقی ہو اور یہ فیصلہ کرنا کسی انسان کا کام نہیں بلکہ صرف خدا تعالیٰ کا کام ہے کہ کون متقی ہے اور کون متقی نہیں ہے۔چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔فـلا تـــز کــو انفسكم هو اعلم بمن اتقى (سورۃ النجم آیت ۳۳) خدا تعالیٰ نے اس زمانہ میں غلبہ اسلام کیلئے جس مہدی