مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 368
368 فرموده ۱۹۷۳ء د و مشعل راه جلد د دوم کر سکتے ہیں کہ احمدی بچی کی طرف ، احمدی عورت کی طرف تمہاری نگاہ نہ اٹھے۔چنانچہ ہم دعا کریں گے اور تربیت کی کوشش بھی کریں گے کہ اپنا معاشرہ ٹھیک کر لیں۔لیکن ہماری ہر احمدی بچی اور احمدی عورت کے متعلق جماعت کو بحیثیت مجموعی یہ تسلی ہونی چاہئے کہ کوئی آنکھ اس پر نہیں اُٹھے گی پھر وہ برابر کی شریک ہوسکتی ہیں۔نہیں تو اسلامی تعلیم کے خلاف ان کو گھروں کے اندر بند کر دیا گیا ہے۔ٹھیک ہے بڑا میدان عمل ان کا گھر ہی ہے اور انہوں نے بچوں کی تربیت کرنی ہے وغیرہ۔لیکن جب ضرورت پڑی تو جہاد کے میدان میں انہوں نے پانی بھی پلایا اور انہوں نے زخمیوں کی دیکھ بھال بھی کی۔علاج کیا مرہم پٹی کی۔جو ان کے کام وہاں جہاد میں ہو سکتے تھے سب کیے۔اب یہ تو نہیں کہ وہاں جا کے وہ بے پردہ تھیں۔نہیں، وہ پر وہ کرتی تھیں اور نہ یہ تھا کہ پردے کی وجہ سے کام میں رکاوٹ پیدا ہوئی۔بہر حال بدلے ہوئے حالات میں جو بڑی تیزی سے بدل رہے ہیں ان کے ساتھ ساتھ ہم نے چلنا ہے۔اس طرح سمجھیں کہ ایک فلڈ آیا ہوا ہے۔آپ نے اسے یہاں سے روکا پھر پانی آگے جائے گا لیکن پانی کے آگے آگے آپ نے جانا ہے تا کہ بند باندھتے چلے جائیں اور گندگی جو ہے وہ بنی نوع انسان کے اندر سرایت نہ کرے اور جماعت کے مردوزن کو اس گندگی سے ہم محفوظ رکھ سکیں۔میں نے ان بوجھ کر دعا پہلے کرا دی تھی، مگر دل آپ لوگوں کی محبت میں اپنی کیفیت رکھتا تھا۔تو میں نے کہا کہ وہ حصہ ختم کر کے پھر اگلا پروگرام آپ کو بتاؤں گا۔میں تو جب سے گھوڑے سے گرا ہوں تو میری ریڑھ کی دوہڈیاں ٹوٹ گئی تھیں۔بڑا لمبا عرصہ ڈاکٹروں نے مجھے لٹائے رکھا اس لئے اب میں بوجھ نہیں برداشت کر سکتا۔نہ اس قسم کا کام کر سکتا ہوں اس لئے کڑھتا رہتا ہوں۔( کیونکہ ویسے میری صحت خدا کے فضل سے اچھی ہے۔میں آپ سے شاید ہر ایک کے ساتھ بینی اب بھی پکڑلوں کا میابی کے ساتھ ، لیکن یہ ایک مجبوری ہے اور مجھے بڑا دکھ اٹھانا پڑتا ہے اور دکھ کی وجہ سے میں سمجھتا ہوں آپکے ساتھ میں بھی شریک ہو جاتا ہوں )۔( خالد مئی ۷۳)