مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 34
فرموده ۱۹۶۶ء 34 د دمشعل و جلد دوم نے پانی پلایا تھا یعنی اگر تم نے کسی شخص کو اجرت پر ہی رکھنا ہے تو جس شخص کو اجرت پر رکھا جائے اگر اس میں دو خوبیاں پائی جائیں تو وہ بڑا ہی اچھا کام کرنے والا ثابت ہوگا۔ایک تو وہ مضبوط جسم کا ہو اور دوسرے وہ امین ہو۔اور لفظ امین کے اندر ذہانت والا پہلو آ جاتا ہے۔کیونکہ انسان کی ذہانت کا بڑا انحصار توجہ پر ہے اور توجہ قائم رکھنے کیلئے ایک انسان کا اپنے پیشہ میں امانت دار اور دیانت دار رہنا ضروری ہے۔ورنہ وہ مثلاً درزی کی دکان پر درزی کا کام کر رہا ہو گا اور سوچ رہا ہوگا کہ میں نے پیسے کمانے کیلئے جو مرغیاں پالی ہوئی ہیں شام کو میں انہیں کیا کھلاؤں گا۔اور وہ کپڑے کے اوپر ٹانکے ادھر ادھر لگا تا چلا جائے گا۔اس کی توجہ قائم نہیں ہوگی۔پس اس آیت میں الفاظ القوى الامین میں صحت جسمانی اور ذہانت دونوں کا ذکر ہے۔جب تک صحت درست نہ ہو وہ بار حیح معنوں میں نہیں اٹھائے جاسکتے۔جو قوت برداشت رکھنے والے انسان اٹھاتے ہیں۔صحابہ کرام کی صحتیں بشمولیت آنحضرت علی اتنی قوت برداشت رکھتی تھیں کہ وہ دنوں پیٹ پر پتھر باندھ کے خدا تعالیٰ کے رستہ میں جہاد کرتے رہتے تھے۔یہاں ایک دن کیلئے کھانا نہ ملے تو اگلے دن شاید ایک مربی بھی یہ کہے گا کہ میں اب تربیت کا کام کس طرح کر سکتا ہوں۔لیکن صحابہ کی صحتیں ایسی تھیں کہ وہ دنوں پیٹ پر پتھر باندھ کے کام کرتے تھے۔اور دنوں اس گرمی میں انہوں نے کام کیا ہے کہ جس گرمی کی شدت بیان کرنے کیلئے اس دنیا میں اور کوئی گرمی موجود نہیں۔گرمی کے دنوں میں جب مسلمانوں کو جہاد کیلئے بلایا گیا تو بعض منافقوں نے کہا۔اتنی شدید گرمی تو دنیا کے تختہ پر کہیں بھی نہیں پڑتی ہوگی۔ہم اس جہاد میں کیسے شامل ہوں۔اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں یہ نہیں کہا کہ فلاں ملک میں اس سے زیادہ گرمی پڑتی ہے۔بلکہ اس نے یہ کہا کہ تم سچ کہتے ہو۔دنیا کے تختہ پر کہیں ایسی گرمی نہیں پڑتی۔لیکن ہم تمہیں بتاتے ہیں کہ نَارُ جَهَنَّمَ اَشَدُّ حَرًّا جہنم کی آگ اس سے زیادہ سخت ہے۔غرض اس گرمی کیلئے (دنیا کی ) مثال نہیں دی جاسکتی تھی۔کیونکہ اس وقت ایسی گرمی اور کہیں نہیں پڑتی تھی۔اس کی مثال دینے کیلئے نَارُ جَهَنَّمَ اَشَدُّ حَرًّا کہا اور یہ قوت برداشت صحت جسمانی کے نتیجہ میں ہی پیدا ہوئی تھی۔ور نہ اگر خدانخواستہ ان لوگوں کا خیال اپنی صحتوں کی طرف نہ ہوتا تو جب جہاد کیلئے ان کو بلایا جاتا تو گو وہ اپنے ایمان اور تقویٰ کے زور پر آجاتے لیکن وہ لولے لنگڑے ہوتے۔ان کی کمریں جھکی ہوئی ہوتیں۔ان کے چہرے زرد ہوتے اور وہ ایک گھنٹہ کی واک (Walk) بھی برداشت نہ کر سکتے۔چلنا ان کیلئے دو بھر ہو جاتا اور اگر وہ آ بھی جاتے تو نبی کریم ﷺ ان کو ساتھ لے کر کیا کرتے۔وہ کوئی بھی کام کرنے کے قابل نہ ہوتے۔غرض ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے پہلے سے ہی تیار کر رکھا تھا۔اور ان کی سمجھ میں یہ نکتہ آ گیا تھا کہ لَوْ أَرَادُوا الْخُرُوجَ لَا عَدُّوا لَهُ عُدَّةً (توبه (۴۶) اگر ان (منافقوں) کی جہاد میں جانے کی نیتیں ہوتیں ( ان کو زیر الزام کیا گیا ہے ) تو وہ اس کیلئے پہلے سے تیاری کرتے اور تیاری کا ایک حصہ یہ بھی ہے کہ وہ اپنی صحتوں کو درست کرتے۔تو دیکھو اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں منافقوں کو ان فٹ (Unfit) قرار دیتے ہوئے مومنوں کو کتنا اچھا سرٹیفیکیٹ دیا ہے کہ وہ جہاد پر جانے سے پہلے اس کیلئے تیاری کرتے تھے اور اپنی صحتوں کو بھی درست رکھتے تھے۔خدا تعالیٰ نے مومنوں کے