مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 363
دومشعل دوم فرموده ۱۹۷۲ء سید نا حضرت خلیفہ مسیح الثالث کا خدام الاحمدیہ سے بصیرت افروز اختتامی خطاب فرمودہ ۱۹ اکتو بر۱۹۷۲ کا خلاصہ پیش خدمت ہے۔سورۃ التین کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا:- اس سورۃ میں چارا نقلابات کا ذکر کیا گیا ہے۔پہلا انقلاب 363 پہلے انقلاب کی علامت الحنین بیان کی گئی ہے۔اور یہ انقلاب حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہوکر حضرت نوح علیہ السلام کے زمانہ تک رہا۔درمیان میں جو انبیاء کرام ہوئے ، انہوں نے ایک طرف اس انقلاب کو کامیاب بنانے کے لئے کوشش کی اور دوسری طرف دوسرے انقلاب کے لئے لوگوں کو تیار کیا۔اس انقلاب کے ذریعہ بنو آدم کو گناہ کا احساس دلایا گیا۔ان کے ننگ یعنی گناہ کی طرف میلان کو ظاہر کیا گیا اور ہدایت کی گئی کہ تم اس جنگ کو ڈھا نپوور نہ تم گناہگار ہو کر رہ جاؤ گے۔اور اس طرح اپنا مقصد حاصل نہیں کر سکو گے۔اس انقلاب میں تین باتیں خاص طور پر ممتاز نظر آتی ہیں۔(۱) شیطان کو یہ ڈھیل دی گئی کہ روحانی انقلاب کونا کام بنانے کے لئے وہ جو جی چاہے کرے۔اس پر وہ گرفت نہیں آئی جو نوح کے زمانہ میں اس پر آئی۔گو یا اللہ تعالیٰ نے اعلان فرمایا کہ میں اس پہلے انقلاب کو بغیر گرفت کے کامیاب کروں گا۔(۲) حضرت آدم پر جو ہدایت نازل ہوئی ، وہ گوروحانی ترقیات کے لئے تھی لیکن اس میں معاشرہ انسانی پر زیادہ زور دیا گیا تھا۔(۳) مادی ضروریات کا اس انداز میں خیال رکھا جاتا تھا کہ آبادی کی تقسیم کے نتیجہ میں نفرت پیدا نہ ہو۔دوسرا انقلاب دوسرا انقلاب جس کا اس سورۃ میں ذکر کیا گیا ہے وہ حضرت نوح علیہ السلام سے شروع ہوا۔اس انقلاب کی علامت زیتون بیان کی گئی ہے۔اس انقلاب میں جو چیز نمایاں نظر آتی ہے وہ یہ ہے کہ خدا نے شیطان سے کہا میں تمہیں ایک حد تک ڈھیل دے سکتا ہوں لیکن اگر تو سمجھتا ہے کہ میرے بندوں کو میرے رستہ سے ہٹا دے گا اور انہیں ہلاک کر دے گا۔تو میں تمہیں ایسا نہیں کرنے دونگا۔کہتے ہیں طوفان نوح کے دوران کشتی نوح کے پاس سے ایک فاختہ گزری جس کے منہ میں زیتون کی ٹہنی تھی۔حضرت نوح علیہ السلام نے فاختہ اور زیتون کی ٹہنی سے دواندازے لگائے۔