مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 358
358 فرموده ۱۹۷۲ ء ، د و مشعل راه جلد دوم دد یہ دو طاقتیں اکٹھی ہو جاتی ہیں تو پھر انسان علی وجہ البصیرت حقیقی مومن یا احمدی مسلمان بنتا ہے پھر اس کے متعلق یہ کہا جا سکتا ہے کہ جس نے اس تیسرے درجہ پر ایمان کا مزہ چکھ لیا یا اس مزہ چکھنے کے بعد جسے ایمان کی بشاشت حاصل ہوگئی اس کے چہرے پر کبھی اداسی نہیں آسکتی۔کون کہتا ہے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے سامنے موت کا چہرہ نہیں آیا اور وہ موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کھڑے نہیں ہوئے۔جس طرح ابو جہل اور اس کے ساتھیوں کے سامنے موت آئی تھی اور انہوں نے کبوتر کی طرح خوف کے مارے اپنی آنکھیں بند کر لی تھیں۔اسی طرح صحابہ کے سامنے بھی موت آئی اور اسی خوفناک شکل میں آئی لیکن وہ مسکراتے ہوئے موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اللہ تعالیٰ کے قرب کی راہوں پر آگے سے آگے قدم مارتے چلے گئے ، اس واسطے کہ وہاں محض عقل نہیں تھی بلکہ عقل کے ساتھ عمل صالح کی قوت بھی کارفرما تھی خدا کی راہ میں جان دینا یا اپنا سب کچھ قربان کر دینا عمل صالح ہے۔یعنی اس کیلئے صرف موت کا وارد ہو جانا ہی نہیں ہوتا بلکہ وہ تو فنافی اللہ کا مقام حاصل کر لیتا ہے وہ موت کو قبول کرنے کیلئے ہر دم اور ہر لحظہ تیار رہتا ہے۔پس یہ وہ مقام ہے جہاں عمل صالح یعنی فنافی اللہ اور عقل کا مقام اکٹھا ہو جاتا ہے۔علم کے میدان میں ہمارا کام کم نہیں ہوا میں نے اس مضمون کو بھی مختصر بیان کیا ہے۔اب یہ دیکھنا باقی رہ گیا ہے کہ اس کا نتیجہ کیا نکلتا ہے۔میں نے مضمون آپ کے سامنے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کر کے بیان کیا ہے۔اور اس طرح یہ آپ کے سامنے علم بسیط کا حکم رکھتا ہے۔یعنی آپ نے جو کچھ سنا ہے وہ مجھ سے سنا ہے۔چنانچہ میں نے اور آپ نے اس کا نتیجہ یہ نکالنا ہے کر تعلیمی اداروں کے قومیائے جانے کے بعد علم کے میدان میں ہمارا کام کم نہیں ہوا بلکہ ہماری توجہ کو اللہ تعالی نے حقیقی علم کے پھیلانے کیلئے آزاد کر دیا ہے کیونکہ درسی کتب پڑھ لینا غرورتو پیدا کر سکتا ہے لیکن ( الف ) صحیح فکر اور صحیح عقل اور (ب) صحیح شعور اور اعمال صالحہ کی قوت نہیں پیدا کر سکتا۔اس کیلئے آپ نے کوشش کرنی ہے۔اس کیلئے آپ نے صرف اس ملک میں کوشش نہیں کرنی۔آپ نے ساری دنیا میں کوشش کرنی ہے کیونکہ اس کیلئے آپ کیا گیا ہے۔پس بدلے ہوئے حالات نے ہمیں پکڑ کر اور جھنجھوڑ کر اس بات کے سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ ہم اپنے بعض ضروری کام بھول گئے تھے۔ہمیں ان کی طرف توجہ کرنی چاہیئے۔اب مثلاً جو شخص احمدیت کا سخت مخالف ہے کیا آپ نے اس کے متعلق کبھی سوچا ہے کہ وہ آپ کی مخالفت کیوں کرتا ہے؟ وہ آپ کی مخالفت محض اس لئے کرتا ہے کہ دینی علم کے میدان میں اس کا علم ظاہری حواس سے آگے نہیں بڑھا۔اس نے جو کتابیں پڑھی ہیں اس کے مطابق اس نے فتویٰ دے دیا۔حالانکہ اسے یہ سوچنا چاہیئے تھا کہ اس کا علم تو ناقص اور نامکمل ہے جس کے ذریعے انسان کسی نتیجہ پرنہیں پہنچ سکتا۔وہ تو صرف علم بسیط کا رنگ رکھتا ہے مگر اس نے ہماری تاریخ میں شروع سے اب تک مخالفت کا یہ تماشہ دکھایا ہے۔یوں ویسے یہ ایک لمبا مضمون ہے لیکن بڑا لطیف بھی ہے اور ایک لحاظ