مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 357 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 357

فرموده ۱۹۷۲ء 357 د دمشعل قل راه جلد دوم چاہیئے کہ انسانی فکر نے یا صحیح فکر نے یا ایک مسلمان کی صحیح فکر نے یا ایک احمدی کی صحیح فکر نے ایمان کی جزئیات سے یہی نتیجہ نکالا کہ اگر انسان الہی احکام کی پابندی کرے گا تو اسے بھی اپنے دائرہ استعداد میں وہ برکات حاصل ہوں گی جو پہلوں نے حاصل کیں۔گویاند ہی میدان میں اس نتیجہ تک پہنچے کا تعلق فکر سے ہے۔چنانچہ پھر اس نے کہا آزما کر دیکھتے ہیں۔پھر اس نے خلوص نیت کے ساتھ عمل کرنا شروع کیا۔پھر اس نے خدا تعالیٰ کے پیار کے جلوے دیکھے۔جب پیار کے جلوے دیکھے تو اس کے سامنے کہیں کہیں بسیط علم کے کچھ جلوے نظر آگئے۔پھر اس نے غور اور فکر سے کام لیا اور نتیجہ نکالا۔پھر اس نے کہا عملی میدان میں مجھے اپنے فکر و شعور کو آزمانا چاہیئے تا کہ میں اس سے فائدہ اٹھاؤں۔چنانچہ هدى للمتقین کا یہی مطلب ہے کہ ایک آدمی جو تقی ہو جاتا ہے اس کیلئے بھی ہدایت کا سامان علم بسیط اور فکر کے تسلسل سے پھر پیدا کر دیا جاتا ہے۔شعوراور عرفان اس کا علم ایک جگہ رک نہیں جاتا۔یہ ہمارا ایک بنیادی مسئلہ ہے کہ کوئی حقیقی مومن قرب الہی کی حرکت میں کبھی ایک جگہ نہیں ٹھہرتا وہ آگے ہی آگے بڑھتا ہے وہ اسی وجہ سے آگے بڑھتا ہے کہ جب وہ خدا کا پیار حاصل کرتا ہے تو اس وقت اس کے سامنے بعض نئی باتیں یا علم کے نئے پہلو آتے ہیں۔پھر وہ ان کے اوپر غور کرتا ہے۔پھر وہ ان سے بعض نتائج اخذ کرتا ہے۔پھر ان کے اوپر وہ عمل کرتا ہے۔پھر ان سے فائدہ اٹھاتا ہے اور پھر اس کے سامنے نئی باتیں آتی ہیں اسی طرح ایک چکر چلتا رہتا ہے جس طرح ایک بگولا آسمان کی طرف جاتا ہے جو الہی محبت اور پیار اور خدائی عظمت اور جلال کے اثرات کا بگولا ہے وہ انسان کو اٹھا کر خدا تعالیٰ کے قریب سے قریب تر کر دیتا ہے۔اسے ہم مذہبی زبان میں شعور اور عرفان بھی کہتے ہیں۔علم اور فکر کی بجائے۔گویا اس مقام پر مذہب نے ایک نئی چیز متعارف کرائی ہے اور وہ باطنی حواس ہیں۔ظاہری حواس کے نتیجہ میں مذکورہ چکر میں ہم عقل تک پہنچے اور پھر اس کے ساتھ ایک اور چکر متوازن چلتا ہے جو شعور سے شروع ہوا اور عرفان کے مرحلہ سے گزرا اور عمل صالح کے تجربہ کے میدان میں داخل ہو گیا۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ عملوا الصالحات کا حکم فرمایا ہے۔عمل صالح اس تسلسل میں عقل ہی کے ساتھ مشابہت رکھتا ہے کہ تجربہ کر کے دیکھتے ہیں اور پھر جس طرح دوسیٹیلائٹ فضا میں ایک دوسرے سے مل جاتے ہیں اسی طرح عقل اور وہ روحانی طاقت جو انسان کو عمل صالح پر مجبور کرتی ہے وہ اکٹھے ہو جاتے ہیں گویا یہ دو چکر جو مختلف نقطوں سے شروع ہوئے تھے ایک مومن کی عقل اور عمل صالح کی قوت پر آکر اکٹھے ہو جاتے ہیں یہ شرف صرف ایک حقیقی مومن کو حاصل ہے کیونکہ جو مومن نہیں ہوتا وہ تو ظاہری علوم کے ارتقائی تسلسل میں عقل پر آکر ٹھہر جاتا ہے۔لیکن جو مومن ہوتا ہے وہ عقل کے ساتھ عمل صالح کی قوت بھی رکھتا ہے۔گویا عقل بھی ایک طاقت ہے جو اللہ تعالیٰ نے انسان کو دی ہے اور عمل صالح کی طاقت بھی انسان کو خدا ہی نے دی ہے