مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 348 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 348

348 فرموده ۱۹۷۲ء د و مشعل راه جلد دوم مادی دنیا میں ایک تبدیلی رونما ہوتی ہے تب دوا کا اثر ظاہر ہوتا ہے۔تاہم یہ تو معجزات ہیں۔اللہ تعالیٰ جماعت احمدیہ میں ہر سال ایسے ہزار ہا نشانات دکھاتا ہے۔یہ حقیقت اپنی جگہ قائم ہے۔اس وقت ہم عام زندگی کے متعلق بات کر رہے ہیں۔یہ دعا تو کرو کہ اے خدا ہماری اچھی طاقتوں میں اضافہ کر اور ان کو زیادہ مضبوط بنا اور ان کو زیادہ قوی بنا اور ہمیں ان طاقتوں سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی توفیق عطا فرما لیکن یہ سمجھنا کہ طاقت اتنی ہی رہے اور فائدہ دگنا مل جائے یہ نامعقول بات ہے۔ایسا کبھی نہیں ہو سکتا۔پھر بعض قدرت کی باتیں ایسی بھی ہوتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا عام حکم ہے کہ یہ کرو تو اس کا نتیجہ نکلے گا۔مثلاً اگر میاں بیوی کے تعلقات ہوں گے تو بچے کی پیدائش کی صورت میں نتیجہ ظاہر ہوگا۔حضرت خلیفتہ مسیح الاول کے پاس ایک دفعہ سرگودھا کے علاقہ کا رہنے والا ایک شخص آیا اور عرض کیا میرے ہاں کوئی بچہ نہیں ہوتا حضور دعا کریں کہ میرے ہاں بچہ پیدا ہو۔آپ کو پتہ تھا کہ یہ خود بمبئی کی طرف جارہا ہے اور اس کی بیوی سرگودھا کے کسی علاقے میں ہے۔آپ نے پوچھا تم سفر کر رہے ہو کس طرف جانے کا ارادہ ہے؟ کہنے لگا میں بمبئی جا رہا ہوں۔آپ نے فرمایا تم بمبئی چلے جاؤ گے تمہاری بیوی گھر بیٹھی ہوگی خالی میری دعا سے تمہارے ہاں بچہ تو پیدا نہیں ہوگا۔پس اللہ تعالیٰ نے جو قانون قدرت مقرر فرمایا ہے اس کے خلاف چل کر یا اسے توڑ کر تو کوئی نتیجہ نہیں نکلا کر تا خدا تعالیٰ کا جو قانون ہے اس کے مطابق عمل پیرا ہو کر نتیجہ نکلا کرتا ہے۔پس جو حقیقت زندگی اور حقیقت اشیاء ہے اس کو سمجھ کر اور خدا تعالیٰ کے قانون کے مطابق اگر تم دعا مانگو اور خدا تعالیٰ تمہاری دعاؤں کو قبول کرلے تو اس کا قانون بدل سکتا ہے۔یہ بھی اس کا قانون ہے کہ وہ اپنے نیک بندوں کیلئے اپنے عام قانون کو بدل کر ایک خاص قانون چلاتا ہے گو یہ بھی اس کا قانون ہے لیکن جب تک تمہاری دعا ئیں اس رنگ میں قبول نہیں ہو جا تیں اس وقت تک کوئی نتیجہ نہیں نکل سکتا کیونکہ دعا اور تد بیرل کر نتیجہ نکالے گی اور جہاں تک تدبیر کا تعلق ہے اللہ تعالیٰ نے جو مادی ذرائع اور دوسرے طریق ہمیں بتائے ہیں ہم ان کو استعمال کریں گے تو کوئی نتیجہ نکلے اورنہ کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا۔مثلاً ایک شخص کتابوں کے پڑھنے کی طرف متوجہ ہی نہ ہو اور سمجھے دعا کرنے سے ہی فرسٹ ڈویژن لے لوں گا۔یہ بات غلط ہے اور عام قاعدہ کے خلاف ہے۔اس لئے ایسا نہیں ہو سکتا ویسے اگر خدا تعالیٰ کسی کے حق میں کوئی معجزہ دکھانا چاہے تو یہ ایک علیحدہ بات ہے اس قسم کے معجزے بھی رونما ہوتے ہیں۔ہم اس حقیقت سے اختلاف نہیں کرتے اور نہ کر سکتے ہیں۔لیکن عوام کی زندگی میں ایسا نہیں ہوا کرتا اور نہ ہی اللہ تعالیٰ کو آزمانا چاہیئے۔انسان کی دعا تو اس وقت قبول ہوتی ہے جب انسان اپنی تدبیر کو انتہا تک پہنچا تا اور دعا کرتے ہوئے اپنے او پر موت وارد کر لیتا ہے۔پھر اللہ تعالی اس کیلئے سب کچھ کرتا ہے اور اسے اپنے دست قدرت سے اٹھاتا ہے۔لیکن آپ میں سے اس وقت یہاں جو دوست بیٹھے ہیں ان میں سے کتنے ہیں جو اس قسم کی موت قبول کرنے کیلئے تیار ہو جاتے ہیں۔بہت کم ہیں۔جس آدمی نے وہ موت قبول کر لی اس نے گو یا سب کچھ پالیا۔اس کیلئے قانون قدرت بھی ایک نئی شکل میں ظاہر ہوا مگر جس نے خدا کی راہ میں موت قبول