مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 346
346 فرموده ۱۹۷۲ء د و مشعل راه جلد دوم دد چھان بین کی تو ہمیں یہی پتہ لگا تھا کہ ان دورنگوں کے سوا آنحضرت ﷺ کے جھنڈے کا اور کوئی رنگ نہیں تھا۔س واسطے ہم نے جماعت کے جھنڈا میں سیاہ اور سفید رنگوں کا ایک امتزاج پیدا کر دیا ہے اور یہی دورنگ یعنی سیاہ اور سفید ہمارے اس رومال میں بھی آئے ہیں اور ایک دوسری شکل میں ناصرات اور لجنہ اماءاللہ کے رومال میں آئے ہیں اور تیسری شکل میں انشاء اللہ انصار اللہ کے رومالوں میں آئیں گے۔انصار اللہ کو چاہیئے کہ وہ مجھ سے مشورہ کر کے اپنے رومال تیار کریں۔ان کے اجتماع میں ابھی کچھ وقت ہے اس وقت تک کچھ نہ کچھ تو ضرور تیار ہو جانے چاہئیں۔ان کیلئے میں رومالوں کی کوئی اور شکل تجویز کروں گا۔تاہم انصار اللہ کے چھلے کیلئے لا غالب الا اللہ کا نشان مقرر کیا گیا ہے۔چاہے وہ عام رکن ہو چاہے وہ مجلس انصاراللہ کا کوئی عہدہ دار ہو سب کا یہی نشان ہوگا۔ہر خادم کے پاس یہ رومال ہو ویسے ہمارا ہر عہدہ دار قائد ہے اور ہمارا ہر خادم قیادت کی اہلیت رکھنے والا ہونا چاہیئے۔پس یہ کوشش کریں کہ ہر خادم کے پاس یہ رومال ضرور ہو۔یہاں تو اس وقت آپ کو یہ رومال تھوڑے ملیں گے بعد میں تیار ہو جائیں گے۔سب خدام لینے کی کوشش کریں ان کی حفاظت کریں، انکو ضائع نہ ہونے دیں۔اس قسم کے رومال کے اور بھی کئی فائدے ہیں۔لیکن میں اس وقت ان کی تفصیل میں نہیں جانا چاہتا تا ہم جو رومال تیار ہوئے ہیں ان میں سے بعض خدام نے لے لئے ہیں۔یہ کچھ چھوٹے بن گئے ہیں۔۔۔جو بعد میں تبدیل ہو جائیں گے۔اصل رومال ایک گز مربع کا تجویز ہوا تھا لیکن موجودہ رومالوں کے بناتے وقت بعض چیزوں کا خیال نہیں رکھا گیا اس لئے کوئی چھوٹا ر و مال بن گیا اور کوئی بڑا بن گیا ہے۔مجلس خدام الاحمدیہ مرکز یہ کو چاہیئے کہ وہ آئندہ احتیاط برتیں۔اگر یہ رومال ایک گز سے چھوٹا رہ جائے تو اس کے ذریعہ جو دوسرے فوائد ہمارے مدنظر ہیں وہ ہم حاصل نہیں کر سکتے۔بہر حال ایسے مواقع پر ہر خادم کے گلے میں یہ رومال ہونا چاہیئے۔ہر وقت ڈالنے کی ضرورت نہیں۔اپنے جماعتی اجتماعوں میں یا جب وہ ڈیوٹی پر ہوں اس وقت یہ رومال اور ایک مخصوص چھلا گلے میں ڈال لیا کریں دنیا میں ہر چیز تجربہ اور تحقیق طلب ہے۔جب شروع میں مجھے اس کا خیال آیا تو میں نے اس سلسلہ میں بڑا غور کیا کہ یہ چھلے اور رومال کیسے اور کس طرح تیار کئے جائیں۔( میں آپ کو اس لئے بتانے لگا ہوں تا کہ آپ کو معلوم ہو کہ کام کرنے کا طریق کیا ہوتا ہے) چنانچہ میں نے یہاں فوری طور پر اپنے پیسوں سے چاندی کے چھلے بنوائے مگر ان پر فی چھلا نو نو دس دس روپے خرچ آئے۔پھر میں نے لاہور آدمی بھیجا اور نکل اور تانبے کے چھلے بنوائے جن پر ایک سے ڈیڑھ روپیہ فی چھلا خرچ آیا۔میں نے سوچا یہ بھی زیادہ قیمت ہے۔کیونکہ ہماری جماعت میں امیر بھی ہیں، غریب بھی ہیں۔بعض ایسے دوست بھی ہو سکتے ہیں جو اپنی زندگی کے کسی مرحلہ پر اپنے بچوں پر