مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 328
328 فرموده ۱۹۷۲ء د و مشعل راه جلد دوم لئے دل میں پیار پیدا ہوتا ہے۔میں نے اپنی عملی زندگی میں دیکھا ہے کہ وہ شخص جو دس سال پہلے کمزور تھا۔آج وہ کہیں کا کہیں پہنچ گیا ہے۔جو لوگ دس سال پہلے کسی شمار میں نہیں تھے آج بڑے محبت اور پیار سے آنے والی نسل ان کے قرب میں جاتی ہے۔آپ کا دل کرتا ہے ان کے ہاتھوں کو پیار کریں۔اور ان کی صحبت میں رہیں۔حالانکہ دس سال پہلے وہ کمزور سمجھے جانے والے تھے۔پس ہم یقین رکھتے ہیں کہ اس کو جو کمزور ہے بشمولیت اپنی کمزوری کے یہ نہیں کہے گا کہ ہمارے بچے زندہ رہیں لیکن محمد ﷺ کی عزت قائم نہ ہو۔ہم نے محمد ﷺ کا وہ مقام دیکھا اور اس کا ہم نے مشاہدہ کیا اور ہم نے محمد علیہ کے احسان کے وہ جلوے دیکھے کہ ہمارا تو رواں رواں آپ کے احسان کے نیچے دبا ہوا ہے۔اور اگر آپ نہ ہوتے تو جیسا کہ خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ جو خدا تعالیٰ کو چھوڑتا ہے وہ کتوں صلى الله اور بندروں اور سؤروں سے بھی نیچے چلا جاتا ہے۔ہم نے مشاہدہ کیا ہے کہ محمد ﷺ کو چھوڑنے والے کتوں سؤروں اور بندروں سے بھی نیچے کی زندگی گزار نے والے ہیں۔اس مشاہدہ کے بعد ہم کس طرح اس گندی زیست کو اس حسن زیست پر ترجیح دے سکتے ہیں ہمیں تو یہی پیاری چیز ہے۔ہماری زندگی میں ایک یہی حسن ہے کہ محمد ﷺ کا حسن ہماری زندگیوں کو منور کرتا رہے۔اور چمکاتا رہے۔اور اس میں خوبصورتی پیدا کرتار ہے۔اس میں دلر بائی پیدا کرتار ہے۔پس ہم تو محمد ﷺ کے مقام کو پہچانتے ہیں۔اور ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہم ہی آپ کے مقام کو پہچانتے ہیں۔پہلا ہمارا عقیدہ توحید کا ہے۔ہم نے رشوت کا سہارا نہیں لینا ہم نے چوری کا سہارا نہیں لینا۔ہم نے انسان کی سفارش کا سہارا نہیں لینا۔ہمیں دوسرے کے سہارے سے کیا ہم نے اپنے سہارے بھی نہیں رہنا۔ہم نے خدا کے حکم کے مطابق خدا کی بنائی ہوئی چیزوں سے پوری تدبیر کرنی ہے۔لیکن وہاں ٹھہر کر ہم نے یہ نہیں کہنا کہ ہم نے اپنا مقصد حاصل کر لیا۔ہم نے یہ کہنا ہے اے خدا تو نے کہا کہ تدبیر کرو۔ہم نے تدبیر کی اور ہم جانتے ہیں کہ جب تک تیرا فضل نازل نہیں ہوگا ہم کامیاب نہیں ہوں گے۔پھر ہم نے تدبیر کی چھت کو (جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا ) آسمان تک لے گئے۔لیکن اس کے نیچے دعا کے ستون کو قائم کرنا ہے اس کے بغیر ہم کامیاب نہیں ہو سکتے۔صرف دعا سے اور عاجزی کے ساتھ اور عاجرانہ راہوں کو اختیار کر کے تضرع کے ساتھ خدا تعالیٰ کے دامن کے ساتھ چمٹ کر اسے یہ کہہ کر کہ اے ہمارے رب ہم تجھے چھوڑیں گے نہیں جب تک تیرے فضل کو حاصل نہیں کریں گے۔تب ہم کامیاب ہوں گے۔ہمارے نفس ہمارے لئے بت نہیں ہیں۔ہمارے علم اور ہماری فراست ہمارے لئے بت نہیں ہیں۔ہمارا زور اور ہماری دنیوی حالت ہمارے لئے بت نہیں ہے۔خدا کا فضل اور احسان ہے اور ہمارے دل اس کی حمد سے لبریز لیکن ہمارا ایک ہی سہارا ہے۔ہماری زندگی اور ہماری بقاء کا ایک ہی ذریعہ ہے۔وہ خدا تعالیٰ کا دامن ہے جسے ہم نے حضرت محمد ﷺ کے طفیل اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام مھدی معہود کے ذریعہ حاصل کر لیا۔اس کے علاوہ ہمیں اور کچھ نہیں چاہیئے۔پس ایک تو ہمارا یہ پختہ اور صحیح عقیدہ ہے۔جو خدا نے ہمیں سکھایا ہے۔اللہ پر ہمارا ایمان ہے۔یا ایمان باللہ