مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 326
326 فرموده ۱۹۷۲ء دو مشعل راه جلد دوم پیچھے لے جا کر روحانی زندگی عطا کی تھی وہ پانی (پانی تمثیل ہے اسے تمثیلی رنگ میں ذہن میں لاؤ کیونکہ مکان کی مثال جب میں زمانے سے دوں گا تو وہ تمثیل بن جاتی ہے ) بعد میں جو بعد ہے زمانی اس میں افاضہ کیوں نہیں کرے گا۔کیونکہ انسانیت کا اصل نچوڑ جس کے لئے انسان کو پیدا کیا گیا ہے۔جو ذمہ داریاں آسمان سے انسان پر پڑتی ہیں وہ مکمل طور پر انسان کے ہاتھ میں دے دی گئیں پھر محمد ی ﷺ کا افاضہ ہوا۔پہلوں کو آپ نے فائدہ پہنچایا بعد میں آنے والوں کو بھی آپ نے فائدہ پہنچایا۔آپ نے یہ فرمایا کہ میری امت کے علماء باطنی ( علماء ظا ہر نہیں) پہلی امتوں کے انبیاء کی طرح ہیں۔حضرت موسیٰ کے کتنے نبیوں سے یا ان کے ناموں سے یا ان کے ذکر سے آپ کی واقفیت ہے؟۔جو آپ میں جماعت کا لٹریچر اور کتب پڑھنے والے ہیں ان کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریرات کی رو سے واقفیت ہے۔چنانچہ امت موسویہ میں تیرہ خلفاء پیدا ہوئے لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ امت موسویہ میں ایک ایک وقت میں سینکڑوں انبیاء موجود ہوتے تھے۔جن کا نام تاریخ نے یاد نہیں صلى الله رکھا۔اور اس کی ضرورت بھی کوئی نہیں تھی۔یہ جو تیرہ نام رکھے گئے ہیں حضرت محمد ﷺ اور مہدی معہود کی صداقت کو ثابت کرنے کے لئے ہیں ورنہ جس طرح اور سینکڑوں ہزاروں کو انسانیت بھول گئی ان کو بھی بھلا دیا جاتا۔جس طرح ہر چیز میں ہمیں ایک مقصد نظر آتا ہے۔اسی طرح اس میں بھی ایک مقصد پیش نظر ہے۔پس محمد یا اللہ اس معنی میں خاتم الانبیاء ہیں کہ کوئی روحانی فیض کوئی شخص حضرت محمد اللہ کے مقابلہ میں کھڑے ہو کر آپ سے دوری کی راہوں کو راختیار کر کے آپ کی ہدایت سے منہ موڑ کر اور آپ کی لائی ہوئی روحانی روشنی سے بچنے کے لئے اپنے گھروں کی کھڑکیاں دروازوں اور روشن دانوں کو بند کر کے اور اوپر کالے پردے لگا کر (جس طرح جنگ کے دنوں میں ہم نے لگا دیئے تھے باہر سے کوئی روشنی نہیں آتی تھی ) کوئی روحانی فائدہ حاصل نہیں کر سکتا۔روحانی فیض پہلوں نے بھی حضرت محمد اللہ کے فیوض سے حاصل کیا۔روحانی روشنی پہلوں نے بھی محمد ﷺ کے روحانی سورج سے حاصل کی۔روحانی خوشحالی کے سامان پہلوں نے بھی محمد ﷺ ہی کے ذریعہ سے حاصل کئے۔اور یہ یہی آپ کا خاتم الانبیاء کا مقام ہے۔زمانی طور پر مسلمانوں کا ہر فرقہ یہ دعوی کرتا ہے کہ محمد ﷺ خاتم الانبیاء ہیں اس سے ہمیں انکار نہیں ہے۔ہم یہ کہتے ہیں کہ ہمارا یہ دعویٰ ہے جب تک دوسروں کو سمجھ نہ آئے وہ تو انکار کر دیں گے۔اور کریں ہمیں ان سے کوئی شکوہ نہیں لیکن ہم یہ سمجھتے ہیں اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ آپ میں سے جس نے غور سے میری باتوں کو سنا ہے وہ بھی اس پر پہنچے گا کہ انسانی فطرت خاتم الانبیاء کے انہی معنوں کو اور یہی معنی ہماری عقل تسلیم کرتی ہے کہ وہ مقام جہاں آکر ساری رفعتیں اور بلندیاں ختم ہو گئیں اور جس جگہ پہنچ کر (اگر پہاڑ کی مثال لی جائے تو جو پہاڑ کی شمالی جانب ڈھلوانیں تھیں انہوں نے بھی اسی سورج سے روشنی حاصل کی جو چوٹی پر تھا اور جو جنوب کی طرف ڈھلوان تھیں انہوں نے بھی اسی سورج سے یا اس چراغ سے یا اس مینار کے بلب سے روشنی حاصل کی جو چوٹی پر تھا۔یہ کہنا کہ ایک بلند چوٹی پر ایک مینار بنایا گیا اور اس پر ایک نہایت روشن چراغ جلایا گیا۔جس کو ہم روحانی سورج بھی