مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 250 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 250

فرموده ۱۹۷ء 250 د مشعل راه جلد دوم کسی بوٹی کو منہ لگاتی ہے اور اسے چھوڑ کر پرے چلی جاتی ہے اس کی فطرت اسے یہ بتادیتی ہے کہ یہ تمہارے کھانے کی چیز نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ نے جانور کو یہ سمجھ عطا کر دی ہے۔کہ تمہارے لئے یہ حلال چیز طیب نہیں ہے۔اس لئے نہ کھاؤ۔یہ حلال چیز تمہارے لئے طیب ہے اسے کھا لو۔ہمیں اس نے عقل دی ہے اور کہا ہے کہ اپنی عقل کے مطابق فیصلہ کرو اور اپنے اندر کی آواز سنا کرو اس کے مطابق کام کیا کرو۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جہاں جو عفت کا لفظ استعمال کیا ہے وہ عام معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے۔یعنی نفسانی شہوات کے معنوں میں بھی کہ انسان کو ان سے بھی بچنا چاہیے اور اس معنے میں بھی استعمال ہوا ہے کہ انسان ہر اس حرام چیز سے بچے جو انسان کے جسم کو یا اس کے کیریکٹر کو داغدار کر دے جیسا کہ میں نے ابھی بتایا ہے دراصل حرام کہتے ہی اس چیز کو ہیں جو انسان کو داغدار کر دے۔اللہ تعالیٰ کی رضا سے جو گر جاتا ہے اپنے کسی گناہ کی وجہ سے اس سے بڑا داغ انسان کو اور کیا لگ سکتا ہے۔تواضع اور انکسار اور خاکساری ان تینوں میں فرق تو ہے لیکن یہ آپس میں زیادہ ملتے جلتے معنے رکھتے ہیں۔اگر میں اس فرق میں گیا تو دیر ہو جائے گی۔اس لئے ان کو میں اکٹھا لے لیتا ہوں۔ایک خادم کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ اپنے آپ کو کچھ نہ سمجھے۔ہم نے اگر چہ خدام الاحمدیہ کی تنظیم میں سائق مقرر کئے ہیں لیکن سائق کو قائد کے ماتحت کیا ہے۔خدام الاحمدیہ کے نظام کی اصل روح قیادت ہے قائد اور سائق کے معنوں میں فرق یہ ہے کہ سائق کہتا ہے پیچھے سے کہ چلو اور وہ خود پیچھے آتا ہے تا کہ کوئی پیچھے نہ رہ جائے۔اس کا اپنا ایک مصرف ہے لیکن وہ اپنے اس عہدے کے لحاظ سے قیادت کا اہل نہیں ہے۔قائد کہتا ہے کہ میں چل رہا ہوں میرے پیچھے آؤ سائق کہتا ہے کہ تم چلو میں تمہارے پیچھے رہوں گا تا کہ تم میں سے کوئی غفلت نہ کر جائے۔پس آپ کو اللہ تعالیٰ نے دُنیا کی قیادت نصیب کی ہے۔آپ یہ بات کر ہی نہیں سکتے۔یعنی یہ بات ایک خادم کی روح کے خلاف ہے کہ آپ یہ کہہ دیں کہ ہم تو آرام سے بیٹھے ہیں تم یہ کام کر لو۔جرمن فوجوں کے متعلق بعض مضمون میں نے پڑھے ہیں اور مجھے ان کی ایک بات بڑی پسند آئی ہے۔جسے میں سمجھتا ہوں کہ انہوں نے اسلام سے لیا ہے اور وہ یہ ہے کہ انہوں نے اپنی فوج کے دس افراد پرمشتمل ہر چھوٹے یونٹ پر ایک لیفٹینینٹ افسر مقرر کر دیا۔بعض ملک ایسا کرتے ہیں اور بعض ایسا نہیں کرتے۔بہر حال ان کو یہ تربیت دی جاتی تھی کہ جنگ کے دنوں میں اس چھوٹے یونٹ کا قائد یعنی لیفٹیننٹ کہتا تھا کہ فلاں جگہ پر ہم نے قبضہ کرنا ہے۔چھوٹے چھوٹے ٹارگٹ مثلاً سو گز پرے جو جھاڑیاں ہیں ہم نے وہاں تک پہنچنا ہے۔دشمن کی مشین گنیں ہم پر حملہ کریں گے مگر وہ لیفٹینٹ افسر اپنے سپاہیوں سے یہ بھی نہیں کہتا تھا کہ تم جاؤ اور میں تمھیں دیکھتا ہوں۔جا کر Capture ( کیچر ) کرلو۔بلکہ وہ یہ کہتا تھا کہ ہمیں حکم یہ ملا ہے کہ میں نے فلاں جھاڑیوں پر قبضہ کرنا ہے میں وہاں حملہ کرنے جارہا ہوں تم میرے پیچھے آؤ۔چنانچہ نتیجہ یہ نکلا کہ دوسرے ملکوں کی نسبت جرمن فوجوں کے لیفٹینٹ اس کثرت سے مارے گئے کہ کوئی حد نہیں یہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ اس کے بغیر کوئی قیادت ہو ہی نہیں سکتی کوئی قائد بن ہی نہیں سکتا۔