مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 233 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 233

233 فرموده ۱۹۷۰ ء د و مشعل راه جلد دوم دد بارہ ہزار کے احمدی مجمع میں یہ بات کہتا تھا تو ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وہ اچھل پڑے ہیں اور آسمانوں کی طرف بلند ہونا شروع ہو گئے ہیں اور جب غیر یہ بات سنتا تھا تو اثر قبول کئے بغیر نہ رہ سکتا تھا۔ان کی سمجھ میں یہ آ گیا ہے کہ اس وقت تک جتنے پیار اور مساوات کے پیغام ہم تک پہنچے ہیں وہ سب دجل کے پیغام تھے عملاً ہمارے ساتھ کسی نے پیار نہیں کیا، کسی نے محبت نہیں کی کسی نے ہمیں اپنے جیسا نہیں سمجھا کسی نے ہمارے ساتھ مساوات کا سلوک نہیں کیا، کسی نے ہمیں اپنا بھائی نہ جانا۔ہر ایک جو آیا وہ لوٹ مار کی طرف متوجہ رہا۔اُس نے ہمیں حقیر جانا اور ہماری کوئی خدمت نہیں کی لیکن یہ ایک ایسی جماعت ہے جو ۵۰ سال یہاں موجود ہے اور ہماری خدمت کر رہی ہے۔اس میں بھی اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے کہ ۵۰ سالہ جماعت احمدیہ کی خدمت کے بعد اللہ تعالیٰ نے جماعت ریہ کے خلیفہ کو موقع دیا کہ وہ وہاں جائے اور انہیں مخاطب کرے اور میرے پاس یہ ایک زبردست دلیل تھی۔میں انہیں کہتا تھا کہ ہم ۵۰ سال سے تمہارے پاس ہیں اور تم میں سے ہر ایک اس بات کا گواہ ہے کہ تمہارے مالوں سے ہمیں کوئی دلچسپی نہیں۔ہمارے Clinics اور ہیلتھ سینٹروں نے بہت کمایا۔صرف کا نو کے ایک سینٹر نے ہی تقریب ۱۵ ہزار پونڈ سٹرلنگ کمایا اور ایک ایک پیسہ وہیں انوسٹ کر دیا۔اب وہ ایک نہایت خوبصورت ہسپتال ہے۔تمہاری حکومتیں جانتی ہیں کہ ہم نے تمہاری سیاست میں کبھی دخل اندازی نہیں کی۔خدا کی شان عجیب ہوتی ہے بندہ تو بڑا عاجز ہے اور غیب کا علم نہیں رکھتا۔اب جب نائیجیریا میں باغیوں نے ہتھیار ڈالے تو اس وقت اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں یہ ڈالا کہ میں اپنی جماعت کو ایک خاص پیغام بھیجوں۔یہ سفر پر روانگی سے چند روز قبل کی بات ہے۔چنانچہ میں نے ربوہ سے تار کے ذریعہ جماعت کے نام پیغام بھیجا اور ان کو کہا کہ تم آزادانہ طور پر Rehabilitation کا کام مت کرو بلکہ رضا کارانہ طور پر اپنی خدمات حکومت کو پیش کر دو اور جو مالی قربانی تم کر سکتے ہوحکومت کو دے دو اور یہ یاد رکھو کہ اب اس موقع پر جب جنگ ختم ہو چکی ہے۔امن کی فضا کو قائم کرنے کی ضرورت ہے اور جو مظلوم ہیں جو جنگ کی لپیٹ میں آگئے ہیں اور دکھی ہیں ان کے دکھوں کو دور کرنے کے لئے باہر کی طرف نگاہ نہ رکھنا۔یہ خیال مت کرنا کہ باہر سے تمہارے پاس کوئی آئے گا۔تمہیں اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا چاہیئے اور اپنے مسائل خود حل کرنے چاہئیں۔اور اس کی نقل گوان کو بھی بھیجی۔اور عین اس وقت جب میری طرف سے یہ تارا نہیں پہنچا پوپ اور دوسرے غیر ملکی مشن اس پر زور دے رہے تھے کہ ہم تمہیں اپنی خدمات پیش نہیں کریں گے نہ تمہیں پیسے دیں گے۔ہمیں اجازت دو کہ ہم خود وہاں جا کر اپنی مرضی سے اور اپنے منصوبہ کے مطابق Rehabilitation کا کام کریں۔مگر چونکہ وہ ان لوگوں کا ستایا ہوا تھا وہ جانتا تھا کہ کس طرح خانہ جنگی کی ابتدا انہی لوگوں کی شرارت کی وجہ سے ہوئی اگر یہ دخل نہ دیتے تو وہ کبھی کا باغیوں کی بغاوت کو فرو کرنے میں کامیاب ہو جاتا۔اسی لئے جب میری اس سے ملاقات ہوئی تو حالانکہ وہ ایک عیسائی اور ایک Sincere عیسائی (یعنی ابھی تک اس پر اسلام کا اثر نہیں ، خدا کرے جلدی اسے ہدایت نصیب ہو) اور