مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 212
فرموده ۱۹۶۹ء 212 د و مشعل راه جلد دوم کر سکتا۔اللہ تعالیٰ نے ہر شخص کو عمل صالحہ کی اہلیت تو عطا کر رکھی ہے۔مثلا یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کر سکے۔لیکن انہی انسانوں میں سے جن میں سے ہر ایک قرب الہی کے حصول کی قابلیت اور اہلیت رکھتا ہے۔ابو جہل بھی پیدا ہو جاتا ہے۔اس قسم کے اور بھی کئی بدقسمت لوگ پیدا ہو جاتے ہیں حالانکہ ان میں قرب النبی کے حصول کی اہلیت بھی پائی جاتی ہے۔لیکن محض اہلیت کا ہونا کافی نہیں ہے۔اہلیت کے ساتھ جب تک تدبیر اور دعا کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی نصرت کو حاصل نہ کیا جائے۔اس وقت تک اہلیت کھلتی نہیں بند کلی کی شکل میں رہتی ہے اور بعض دفعہ وہیں ختم ہو جاتی ہے۔حالانکہ اگر اللہ تعالیٰ کا فضل شامل ہو۔تو وہی گلاب کا ایک خوبصورت پھول بن جاتا ہے۔پس صدر بننے والے نوجوان کیلئے بھی دعا کرنی چاہیے اور اس عہدہ سے سبکدوش ہونے والے مخلص نوجوان کے لئے بھی دعا کرنی چاہیے۔اللہ تعالیٰ ان کی کوششوں کو قبول کرے اور آنے والے کو یہ توفیق دے کہ وہ اللہ تعالی کی مدد سے پہلوں سے زیادہ کام کر کے دکھا ئیں۔ہم کسی جگہ پر ٹھہر نہیں سکتے۔ہمارا ہر فر د جس پر نئے سرے سے ذمہ داری عائد کی جاتی ہے۔ان کو پہلوں سے آگے نکلنے کی کوشش کرنی چاہیے۔کیونکہ جماعت میں اللہ تعالیٰ کے نل سے پھیلا ؤ اور وسعت آ رہی ہے۔جماعت کے کام بھی بڑھ رہے ہیں۔اس کی ذمہ داریاں بھی بڑھ رہی ہیں۔غرض میں بتارہا تھا کہ جنہوں نے مجلس کی صدارت کا چارج لیا ہے وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خونی رشتہ کے لحاظ سے خاندان کے فرد نہیں ہیں۔لیکن روحانی رشتہ کے لحاظ سے ہر شخص اپنی ہمت اور کوشش اور اپنی دعا اور عاجزی کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کی روحانی اولاد بننے کے قابل ہے اور سچا اور حقیقی روحانی بیٹا اسے بننا چاہیے۔اور بہت سے لوگ ہیں جو جسمانی اولاد سے بھی زیادہ آگے نکل جاتے ہیں۔حالانکہ وہ محض روحانی اولاد ہوتے ہیں۔جسمانی تعلق تو ایک دنیوی تعلق ہے۔مذہب یا روحانیت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔حضرت صحیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا اپنی اولاد سے اصل تعلق روحانی تعلق ہی ہے۔اسی واسطے کہا گیا ہے کہ انبیاء کسی کے وارث ہوتے ہیں نہ آگے ورثہ میں کسی کو کچھ دیتے ہیں۔کیونکہ ورثہ کا تعلق جسمانی قرابت سے ہے اس کی نفی کر دی گئی ہے لیکن جہاں تک روحانی فیوض و برکات کا تعلق ہے وہی حقیقت، وہی صداقت اور وہی حکمت ہے۔و ہی دراصل صحیح معنی ہیں۔کسی شخص کی روحانی اولاد ہے۔جس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کو اس کی منشاء اور فرمان کے مطابق قائم کیا۔اور ہر شخص اپنے اخلاص اور ایثار کے مطابق اپنا اجر پاتا ہے۔پس اصل میں یہی روحانی اولا دایک روحانی وجود کی اولاد ہے۔اس کی جسمانی اولاد کوئی نہیں ہوتی۔بہت سی جگہوں پر اس قسم کی غلط فہمی پیدا کی جاتی ہے اور جس طرح Erosion (اروژن) کے نتیجہ میں دریا کا پانی کاٹ جاتا ہے۔یہاں بھی اس قسم کے Erosion (اروژن) ہوتے رہتے ہیں۔پھر بارشیں آتی ہیں۔بعض کھیتوں کی حالت خراب کر جاتی ہیں جہاں پہلے بڑی اچھی کھیتی ہوا کرتی تھی وہاں نشیب و فراز اور بالکل بنجر علاقے بن کر رہ جاتے ہیں۔اس قسم کے