مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 192
دومشعل دوم فرموده ۱۹۶۹ء 192 فرمائی: سید نا حضرت خلیفتہ امسح الثالث نے مجلس خدام الاحمد یہ مرکز یہ کے سالانہ اجتماع کے موقعہ پر مورخه ۱۹ اکتوبر ۱۹۶۹ء کو جو اختتامی تقریرفرمائی تھی اس کا مکمل متن درج ذیل کیا جاتا ہے۔سید نا حضور انور نے تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد قرآن کریم کی مندرجہ ذیل آیات کی تلاوت وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَةَ اللَّهِ لَا تُحْصُوهَا إِنَّ اللَّهَ لَغَفُورٌ رَّحِيمٌ (النحل : ١٩) وَاِنْ تَعُدُّوا نِعْمَتَ اللَّهِ لَا تُحْصُوهَا إِنَّ الْإِنْسَانَ لَظَلُومٌ كَفَّارٌ۔(ابراهیم: ۳۵) اس کے بعد حضور نے فرمایا: - میں نے اپنی افتتاحی تقریر میں بتایا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان پر بے شمار نعمتیں نازل کی ہیں۔اللہ تعالی بڑا ہی فضل کرنے والا ہے بڑی ہی رحمتوں سے نوازنے والا ہے۔خدا نے چار قسم کی قوتیں انسان کو عطا کی ہیں علاوہ اور احسانوں کے جو اس نے انسان پر کئے ایک بڑا احسان کیا کہ اُسے چار قسم کی قوتیں عطا کیں یعنی جسمانی پہنی اخلاقی اور روحانی۔ان چاروں قوتوں کی نشو ونما کے لئے ہی باقی تمام نعماء عطا کی گئی ہیں۔انسان کو ہر دوسری نعمت اس لئے عطا ہوئی ہے کہ وہ اپنی قابلیتوں اور صلاحیتوں اور استعدادوں کو صحیح طور پر کمال نشو ونما تک پہنچا سکے۔اللہ تعالیٰ ان دو آیات میں جن کی میں نے ابھی تلاوت کی ہے فرماتا ہے کہ ہم نے تمہیں قومی دیئے۔ہم نے ان قومی کی صحیح تربیت اور اعلی نشو ونما کے لئے جس چیز کی ضرورت تھی وہ تمہیں عطا کی اور ہم نے یہ فضل بھی کیا کہ تم انسان خطا کے پتلے ہو تم خلوص نیت کے ساتھ کوشش کرتے ہو۔تمہارے دل میں یہ تڑپ پیدا ہوتی ہے کہ تم اپنے رب کی رضا کو حاصل کرو لیکن ہمارے بتائے ہوئے طریقوں پر کی گئی تمہاری تدبیر میں بعض نقائص رہ جاتے ہیں۔بعض کمزوریاں رہ جاتی ہیں بعض خامیاں رہ جاتی ہیں بعض لغزشیں ہو جاتی ہیں اس صورت میں میں نے تم پر یہ فضل کیا ہے کہ میں تمہارے اخلاص کو دیکھتے ہوئے تمہاری کمزوریوں کو اپنی مغفرت کی چادر میں لپیٹ لیتا ہوں اور وہ خامیاں جو دنیا کی نگاہ سے نہیں بلکہ بعض دفعہ خود تمہاری نگاہ سے پوشیدہ رہ جاتی ہیں اور ان کا وہ نتیجہ نکل آتا ہے جو تم بھی اور میں بھی نکالنا چاہتا ہوں۔یعنی تم میرے قرب کو حاصل کرو گے اور میں بار بار رحم کرنے والا ہوں۔میری رحمت صرف ایک لغزش ہی کو نہیں ڈھانکتی بلکہ جب انسان کے دل میں اخلاص کے سمندر موجزن ہوں تو