مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 177
177 فرموده ۱۹۶۹ء د و مشعل راه جلد دوم اس کا ذہن اس کے پہلو میں آ کر کھڑا ہوا اور اس کو کہا کہ تیرا کی میں تم اپنے عضلات ، اعصاب اور دوسری چیزوں سے کام لیتے ہو ان سے ایک تو اس قوت کی نشو ونما میں مددملتی ہے اور دوسرے اس سے دنیا کو فائدہ پہنچتا ہے۔مثلاً اب ایک بیٹی ربڑ کی ہوا بھر کے باندھ دی جاتی ہے اور یہ تیرا کی کی قوت کی نشو و نما کا ایک بہتر طریقہ ہے۔اس سے پہلے ہم بچہ کو اپنے ہاتھ پر رکھتے تھے اور انسان انسان ہی ہے۔ہاتھ بھی نیچے ہوتا تھا اور بھی اوپر ہوتا تھا اور بچہ کو تیرا کی سکھنے میں پوری مدد نہیں ملتی تھی۔لیکن اس بیلٹ سے یا اس کی بعض اور شکلیں ہیں ان سے اس کو زیادہ فائدہ پہنچ جاتا ہے۔اب دیکھو پہنی ترقی ہوئی تو ذہن نے سوچنا شروع کیا اور مختلف زاویوں سے سوچنا شروع کیا کہ اچھا تیر نا کس طرح سیکھا جا سکتا ہے یا سکھایا جا سکتا ہے اور ڈوبنے کے جو خطرے ہیں ان سے زیادہ سے زیادہ کس طرح بچا جاسکتا ہے وغیرہ وغیرہ۔انسان نے جب سوچنا شروع کیا اور اللہ تعالیٰ کے فضل کو اس نے جذب کیا تو اس کے ذہن نے اور اس کے علم نے بہت سی ایسی چیزیں نکالیں۔جو ایک طرف اس کے جسمانی قوی کی نشو ونما میں مد ہوئیں اور دوسری طرف وہ اس کی اخلاقی نشو و نما میں ممد ہوئیں۔پھر اخلاق کا تعلق حسن سلوک اور حسن معاملہ سے ہے۔اس لئے یہ سوال پیدا ہوا کہ ان چیزوں کو کس رنگ میں دوسرے کے فائدہ کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے اور جب اخلاق اچھے ہو گئے تو پھر روحانیت کی طرف توجہ ہوئی کیونکہ اچھے اخلاق والا انسان ایک احساس یہ بھی اپنے اندر پاتا ہے۔( بداخلاق انسان یہ احساس نہیں رکھتا ) اچھے اخلاق والا انسان اپنے اندر یہ احساس پاتا ہے کہ میں نے اپنے حسنِ سلوک اور حسن معاملہ سے دنیا میں بہتوں کو دُکھ سے نجات دی۔اور میں بہتوں کے کام آیا۔میں نے اپنے اچھے اخلاق کا اظہار کیا اور میں ہر دلعزیز بھی بنا۔لیکن ابھی میں نے اپنے رب کی نگاہ میں عزت کا مقام حاصل نہیں کیا۔مجھے روحانیت حاصل نہیں ہوئی۔تب وہ اپنے اخلاق پر زیادہ سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی صفات کا رنگ اور اللہ تعالیٰ کی صفات کا نور چڑھانا شروع کرتا ہے اور اس سے اس کی روحانیت کی نشوونما میں مددملتی ہے۔یہ اخلاق روحانی رفعتوں کے لئے ممد اور معاون ہوتے ہیں۔پھر جب وہ روحانی طور پر اپنی روحانی قوتوں کو کمال نشو ونما تک پہنچاتا ہے۔تو پھر اس کی روحانیت اپنا چکر پورا کر کے پھر ربوبیت کی طرف آتی ہے اور وہ کہتا ہے کہ جب میں نے اپنے رب کی رضا کو پایا تو میں نے یقین اور عرفان حاصل کیا کہ دنیا کی سب لذتوں اور دنیا کے سب سرور سے زیادہ اللہ تعالیٰ کے پیار کی لذت اور سرور ہے اور مجھے اپنے دوسرے بھائیوں کو اس میں شریک کرنا چاہئیے۔پھر تبلیغ کے لئے باہر نکلتا ہے۔پھر وہ اصلاح کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔پھر وہ ان لوگوں کو جو اپنے رب سے دور ہیں واپس اپنے پیدا کرنے والے کی طرف لانے کی کوشش کرتا ہے۔اور اس طرح اس کی روحانیت میں ربوبیت کا جلوہ نظر آنے لگتا ہے یعنی اس کے جسمانی قو می اس کی روحانیت کے تابع ہو کر اپنا کام کرتے ہیں۔غرض اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر تم میرے دیئے ہوئے قومی کی ، میری عطایا کی ، میری نعمتوں کی ، میرے فضلوں کی صحیح نشو ونما کرو گے اور ان سے زیادہ سے زیادہ اور اچھے سے اچھا فائدہ اٹھاؤ گے تو اس میں تمہارا اپنا