مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 174 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 174

دومشعل دوم فرموده ۱۹۶۹ء 174 مجلس خدام الاحمد یہ مرکز یہ کے سالانہ اجتماع ۱۷ راکتو بر ۱۹۲۹ء کی افتتاحی تقریب کے موقعہ پر حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ کا ایمان افروز خطاب تلاوت قرآن کریم اور نظم خوانی کے بعد خدام نے کھڑے ہو کر حضور کی اقتداء میں اپنا عہد دوہرایا۔عہد کے بعد حضور نے فرمایا۔اب ہم دعا کریں گے اور اس کے بعد میں انشاء اللہ آپ سے باتیں کروں گا۔دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ایک احمدی بچے اور نوجوان کو جس شکل اور صورت اور حسن میں دیکھنا چاہتا ہے وہی شکل ہماری بن جائے وہی صورت ہماری ہو جائے اور اس کے فضل سے وہی حسن جو اس کی صفات کا جلوہ ہے جو اس النور کا نور ہے۔وہ ہمیں اپنے ہالہ میں لے لے آؤ اب دعا کر لیں۔اس کے بعد حضور نے لمبی پُر سوز دعا کرائی اور اس کے بعد خدام سے جو نہایت لطیف اور ایمان افروز خطاب فرمایا۔تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیت قرآنیہ کی تلاوت فرمائی۔إِنَّ اللهَ لَذُو فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ هُمُ لَا يَشْكُرُونَ۔(یونس آیت: ۶۱) اس کے بعد فرمایا: آؤ ہم اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کے بے شمار عطایا اور بے انتہاء اور نعمتوں کا ذکر کریں اور اس طرح اس کے ذکر سے اپنے دل کے مشکیزہ کو محبت کے پانی سے بھرنے کی کوشش کریں۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی اس آیت میں جو ابھی میں نے سورۃ فاتحہ کے بعد تلاوت کی ہے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بڑے ہی فضل انسان پر کئے۔لیکن کم ہیں جو ان نعمتوں کا شکر ادا کرنے والے ہیں۔فضل کے معنی جب اسے اللہ کے لئے استعمال کیا جائے۔اس وقت خصوصاً اس طرف اشارہ کرتے ہیں۔کہ اللہ تعالیٰ کو ایک تو اس کی کوئی ضروت نہیں تھی کہ وہ نعمتیں اپنے بندوں کو عطا کرے جو اس نے دیں اور دوسرے جن کو اس نے وہ نعمتیں عطا کیں ان کا اللہ تعالیٰ پر کوئی حق نہیں تھی۔احتیاج کا نہ ہونا یعنی کامل غنا کا انسانوں کے ساتھ تعلق نہیں بلکہ بہت سے انسان دوسروں کو دیتے تو عطیہ کے رنگ میں ہیں۔لیکن امید رکھتے ہیں کہ جب انہیں ضرورت پڑے گی تو وہ ان کا کام کریں گے۔لیکن اللہ تعالیٰ تو غنی اور بے نیاز ہے اس کو کسی غیر کی ضرورت پڑنے کا امکان ہی نہیں ہے۔اس معنی میں اللہ تعالیٰ کیلئے فضل استعمال ہوتا ہے۔یعنی اسے ضرورت کوئی نہیں تھی ان عطایا کو بخشنے کی لیکن پھر بھی اس نے اپنی رحمت بے پایاں سے اپنی مخلوق پر بے شمار فضل کئے۔