مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 165 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 165

165 فرموده ۱۹۶۹ء د مشعل راه جلد د ، دوم کیں۔ہدایت دی اور روشنی عطا کی اور اپنے قرب کی راہوں کے تعین کی اور کہا کہ میری انگلی پکڑو میں تمہیں اپنے قرب کی راہوں کی طرف لے چلتا ہوں اور پھر اپنے مقربین کو اپنی گود میں بٹھا لیا لیکن نسبتا زیادہ کسی پر اس کا فضل ہوا اتنا ہی زیادہ اس کے اندر عاجزی انکساری اور اس بات کا احساس پیدا ہوا کہ میں لاشے محض ہوں نیست ہوں یا بیچ ہوں کچھ بھی نہیں۔میری کوئی ہستی ہی نہیں اور اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کی ایک عظمت اور شوکت ظاہر ہوتی ہے کہ انسان خدا میں ہو کر یعنی فانی فی اللہ ہو کر جو کچھ حاصل کر سکتا ہے وہ حاصل کر سکتا ہے ورنہ وہ کوئی چیز نہیں۔پھر ایک تو یہ ہے علم والا پہلو حق نفس کا کہ اپنی کمزوریوں کو بھی وہ جانتا ہو جن سے نفس ہلاک ہو جاتا ہے اور ان قوتوں اور طاقتوں کو بھی پہچانتا ہو جن کے صحیح استعمال سے وہ اللہ تعالیٰ کے پیار کو حاصل کر سکتا ہے اور اس کی رضا کو پاسکتا ہے اور نفس کا دوسرا حق یہ ہے کہ وہ صرف یہی علم نہ رکھتا ہو بلکہ اس پر عمل کرنے والا بھی ہو۔خالی یہ لیکچر دے دینا کہ حسن اخلاق سے کام لو یہ بالکل بے معنی چیز ہے۔لیکچر دینے والوں کے لئے اور لیکچر سننے والوں کے لئے بھی یہ ضروری ہے کہ وہ اس پر عمل کرنے والوں ہوں۔اگر وہ خود عمل نہیں کرتے تو ایسے شخص کی مثال ایک بند کتاب کی تو ہوسکتی ہے جس میں اخلاق کے متعلق بہت سے علوم لکھے گئے ہیں اور امت مسلمہ کے علماء نے بہت سی کتب ان کے متعلق اور ان کی تہذیب کے متعلق یعنی پاک وصاف کرنا، پالش کرنا، روشن کرنا، نمایاں کرنا علوم کا ہالہ ان کے گرد پیدا کرنا وغیرہ کس طرح کیا جا سکتا ہے اس پر انہوں نے بہت سی کتابیں لکھیں لیکن اگر کتا بیں سن کر انسان ان کو بند کر دے اور اس طرح آگے کتابیں پڑھنے والا بھی انکو پڑھ کر بند کر کے رکھدیں اور اس پر عمل نہ کریں تو کیا فائدہ ہے ایسے لکھنے کا اور کا فائدہ ہے ایسے پڑھنے کا نفس کا حق یہ ہے کہ جہاں ایک طرف اس کا وجود اللہ تعالیٰ کی رضا میں فنا ہو جائے اور ان باقی نہ رہے وہاں اس کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہوئے اور اس کا شکر گزار بندہ بنتے ہوئے وہ نعمتیں جو اسے اللہ تعالیٰ نے جسمانی، ذہنی، اخلاقی اور روحانی طور پر عطا کی ہیں ان سے وہ پورا فائدہ اٹھائے اور ان پر وہ پورا عمل کرتے ہوئے جب تک یہ چھ قسم کے یا ہم تین قسم کے حق کہہ سکتے ہیں جیسا کہ میں ابتداء میں بتا چکا ہوں چھ قسم کے حق اس لئے کہہ سکتے کہ ان تین قسم کے حقوق کے آگے دودو پہلو ہیں۔جب تک ہم ان حقوق کو ادا نہ کریں۔تو حید خالص قائم نہیں ہو سکتی۔نہ اپنے نفس کے اندر اور نہ دنیا کے اندر۔کیونکہ اگر ہمیں اللہ تعالیٰ کی صفات کا علم بھی نہ ہو تو ہم اللہ تعالیٰ کی ان صفات کی عظمت اور اس کے جلال کے پر تو کے نیچے آ کر اپنی پرورش نہ کریں تو حقیقی تو حید قائم نہیں ہو سکتی۔کیونکہ زندگی میں ویسے تو لاریب تو حید خالص قائم ہے اور اس کے تصرف میں ہر شے ہے۔لیکن یہاں سوال ہے تو حید خالص کا انسانی زندگی میں قائم کرنے کا۔انسانی زندگی میں توحید خالص قائم نہیں ہو سکتی جب تک ہم اللہ تعالیٰ کی صفات کا پوری طرح علم نہ رکھتے ہوں اور پوری طرح واقفیت رکھنے کی کوشش نہ کریں۔یہ صحیح ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفات کی واقفیت انسان درجہ بدرجہ اپنی استعداد کے مطابق حاصل کرتا ہے اور جتنا جتناوہ اس سے نزدیک ہوتا چلا جاتا ہے اتنی ہی دنیوی Expression (اظہار ) کے طور پر ہم کہیں گے کہ اس کی روشنی کو زیادہ منور، زیادہ واضح طور پر وہ اپنی