مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 13
13 فرموده ۱۹۶۶ء دو مشعل راه جلد دوم دماغ کا حکم انکی تک پہنچ جاتا ہے۔اب سائنس دانوں نے معلوم کیا ہے کہ دماغ سے پیغام لانے والی بجلی کی رو جب ایک ٹکڑے سے دوسرے ٹکڑے میں پہنچ جاتی ہے۔تو دونوں کے درمیانی فاصلہ پر تیار شدہ کیمیاوی پل اگر فوری طور پر تباہ نہ ہو جائے۔تو انسان کی فوری طور پر موت وارد ہو جاتی ہے۔غرض اللہ تعالیٰ نے ایسا انتظام کیا ہے۔کہ جو نہی یہ بجلی کی روا یک نرو سے دوسری نرو تک پہنچتی ہے۔تو دونوں کے درمیانی فاصلہ پر تیار شدہ کیمیاوی پل تباہ ہو جاتا ہے۔کیمیاوی اجزاء میں ایک تغیر پیدا ہو جاتا ہے اور جب وہ رو آگے گزر جاتی ہے تو پل خود بخود تباہ ہوجاتا ہے ورنہ انسان فوت ہو جاتا ہے۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ دماغ ہر وقت اور ہر لمحہ اپنے احکام جسم کے مختلف اعضاء تک پہنچا رہا ہے کوئی پیغام پاؤں کی انگلی کو جارہا ہے کوئی گھٹے کو جارہاہے کوئی ہاتھ کو جارہا ہے کوئی زبان کو جارہا ہے۔کوئی آنکھوں کو جارہا ہے۔کوئی کسی دوسرے عضو کو جارہا ہے۔آنکھ جھپک نہیں سکتی۔جب تک اسے جھپکنے کا حکم دماغ سے صادر نہ ہو۔غرض ایک سیکنڈ کے اندر اندر سینکڑوں بلکہ ہزاروں احکام دماغ سے صادر ہوتے ہیں اور سینکڑوں ہزاروں روئیں یہ احکام لے کر آتی ہیں۔اور دوسرے اعضاء تک پہنچاتی ہیں۔اور اس طرح شاید سینکٹروں ہزاروں یا لاکھوں پل ایک سیکنڈ کے اس حصے میں جو اس کا سینکڑواں، لاکھواں یا کروڑواں حصہ ہوتا ہے۔تیار ہوتے ہیں اور مٹتے جاتے ہیں۔یہ انتظام اللہ تعالیٰ نے ہماری بقا اور حفاظت کے لئے جاری کیا ہے۔جب کوئی روا یک نرو سے دوسری نرو میں جانا ہوتی ہے۔تو دونوں کے درمیانی فاصلہ پر پل بن جاتا ہے اور جب وہ روگزر جاتی ہے تو وہ پل تباہ ہو جاتا ہے۔جہاں کوئی پل جلدی میں اور فوراً تیار ہو جاتا ہے۔وہاں سے جب روگزر جاتی ہے تو وہ فور انتباہ ہو جاتا ہے۔خدا تعالیٰ کے اس جاری کردہ نظام میں بہت سی حکمتیں ہیں اور ان حکمتوں تک ہماری سائنس نہیں پہنچ سکتی۔ابھی جب میں یہ بات کر رہا تھا۔ایک چیز میرے ذہن میں آئی کہ ہو سکتا ہے۔اگر وہ کیمیاوی پل اس طرح قائم رہیں تو جس طرح دماغ کی طرف سے ایک رواعضاء کی طرف چلی تھی وہ اعضاء کی طرف سے دماغ کو واپس جا کر اس کو نقصان نہ پہنچائے اس لئے ضروری معلوم ہوا کہ ان رستوں کو جن سے بجلی کی روئیں دماغ کے احکام لے کر گزرتی ہیں فوری طور پر مسدود کر دیا جائے۔تا کہ دماغ کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔بہر حال ابھی انسان علوم کے سمندر کے کنارے پر کھڑا ہے لیکن سمجھتا ہے کہ وہ بہت بڑا عالم ہے۔اس کی مثال اس شخص کی ہے جو مچھلی پکڑنے والی چھوٹی کشتی کے اندر بیٹھ کر سمندر کے اندر کچھ دور تک چلا جاتا ہے اور سمجھتا ہے۔میں نے سمندر کی سیر کر لی حالانکہ اس کے آگے ہزاروں میل تک سمندر ہوتا ہے اور اس کے متعلق اسے کچھ بھی معلوم نہیں ہوتا۔پس اللہ تعالیٰ کی رحمانیت کی صفت ہر آن ہمارے لئے ہزاروں جلوے دکھا رہی ہے اسی لئے بسم اللہ الرحمن الرحیم میں رحمانیت کے واسطہ کو پہلے رکھا۔پھر اسے اس لئے بھی پہلے رکھا ہے کہ رحیمیت کی صفت کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے کچھ عمل کیا تھا۔اس کا نتیجہ اللہ تعالیٰ نے ہماری ضروریات اور نیت کے مطابق نکالا۔لیکن اس عمل کے شروع سے قبل بھی اللہ تعالیٰ کی صفت رحمانیت کروڑوں کروڑ جلوے دکھا چکی ہوتی ہے۔پس ہمیں بتایا