مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 153 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 153

153 فرموده ۱۹۶۹ء د و مشعل راه جلد دوم دد ہے۔ان کی تربیت کی طرف کچھ زیادہ توجہ پھیر نی پڑتی ہے۔جو کہ دوسری طرف دے سکتے تھے۔پس رفتار میں ستی بہر حال پیدا ہو جاتی ہے چاہے وہ جماعت کی جو حرکت آگے کی طرف ہے اس کا اربواں حصہ ہی کیوں نہ ہو لیکن بہر حال فرق تو ضرور پڑتا ہے۔اس وقت تو ہمیں خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے Momentum ( مومینٹم ) حاصل کرنے کا موقعہ دیا ہے۔اگر آپ اپنی جماعتی عمر کو دس سالہ اثاثوں میں تقسیم کر کے دیکھیں کہ جو ہماری ترقی ہوئی ہے۔پہلے دس سال میں، دوسرے دس سال میں، تیسرے دس سال میں، چوتھے دس سال میں پانچویں دس سال میں تو آپ کو نظر آئے گا کہ ہماری ترقی دس سالہ اصول پر نہیں ہوتی یعنی پہلے دس سال اور دوسرے دس سال کو ملا کر دگنی ترقی ہونی چاہیے تھی لیکن ترقی ہوتی ہے چار پانچ گنا زیادہ اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ نسبت بڑھتی چلی جارہی ہے۔اس رفتار ترقی کو قائم رکھنا بڑا ضروری ہے کیونکہ انسان اس دنیا میں ہمیشہ نہیں رہتا ایک نسل کے بعد دوسری نسل پیدا ہوتی ہے اور قومی لحاظ سے جوذ مہ داریاں زیادہ تربیت یافتہ نسل پر ڈالی گئی۔مثلا تیسری نسل پر۔اس سے کہیں زیادہ ذمہ داریاں چوتھی نسل پر پڑتی ہیں۔کیونکہ ایسے Momentum ( موسیشم ) کی وجہ سے کام میں وسعت پیدا ہو جاتی ہے اور تربیت میں نسبتا کمی واقع ہو جانے کا امکان ہوتا ہے ضروری نہیں کہ کبھی پیدا ہو بھی لیکن امکان تو بہر حال ہوتا ہے۔پس اس محاذ پر ہمیں بڑی ہی جدو جہد اور مجاہدے کی ضرورت ہے۔جس نسل پر پہلے سے زیادہ اور وسیع ذمہ داریاں پڑتی ہیں وہ ان ذمہ داریوں کو نباہنے کے قابل ہونی چاہیے ورنہ ہمارے اس Momentum (مومیشم) میں فرق پڑ جائے گا۔ہم اس تیزی سے آگے نہیں بڑھ سکیں گے۔میں نے جلسہ سالانہ پر بتایا تھا کہ پچھلے اسی نوے سال میں بڑا نمایاں فرق نظر آتا ہے۔۱۹۴۴ ء تک باہر کے ملکوں کے احمدیوں کی تحریک جدید میں ایک پیسے کی بھی Contribution ( کنٹری بیوشن نہیں تھی۔مقامی طور پر تھوڑی بہت مالی قربانی دیتے ہوں تو یہ الگ بات ہے جس طرح مثلاً یہاں کراچی میں دوست مقامی طور پر بھی چندہ دیتے ہیں لیکن جہاں تک ہمارے بجٹ کے حصے کا تعلق ہے اس میں باہر کے ملکوں کے احمدیوں کا ایک دھیلا بھی چندہ نہیں تھا اور اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے تحریک جدید کے بجٹ کا ساٹھ ستر فیصد حصہ باہر کے ملکوں کے احمدیوں کے چندے کا ہوتا ہے۔میں نے دوبار ایسے Figure ( یعنی اعداد و شمار ) لے کر موازنہ کیا تھا تو میں علیٰ وجہ البصیرت اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ ترقی کی رفتار میں دن بدن تیزی پیدا ہورہی ہے۔ویسے یہ تو محض اللہ تعالیٰ کے مل کا نتیجہ ہے۔ہم نے اپنے زور بازو سے یہ شاندار ترقی حاصل نہیں کی۔پس یہ اللہ تعالیٰ کا ہم پر بڑا انعام ہے اور ہمیں اس انعام کی ناشکری نہیں کرنی چاہیے۔اس لحاظ سے آپ کی بہت بڑی ذمہ داری ہے۔آپ بڑی عجیب قوم ہیں یعنی امکان کی دنیا میں آپ کا بلند مقام ہے۔آپ دوسرے نوجوانوں کی طرح نہیں ہیں۔آپ ایسے بے شمار فضلوں اور نعمتوں کے وارث ہوتے ہیں اور یہ فضل اور انعام ان نعمتوں کے علاوہ ہیں جو ہر انسان پر نازل ہورہے ہیں لیکن ایک وہ انعام ہے جس میں مومن اور کافر برابر ہے لیکن آپ نے جن الہی انعامات سے حصہ لیا -