مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 140 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 140

د دمشعل راه مل راه جلد دوم فرموده ۱۹۶۹ء 140 ذہن میں بھی نہیں آتی۔پس اس طرح کی یہ کیفیت دوستی میں بھی پیدا کرنی چاہیے کہ کوئی خیال بھی دل میں نہ آئے کہ ہم نے کسی پر کوئی احسان کیا ہے۔اس طرح معلوم ہونا چاہیے کہ دو آدمی ہیں آپس میں بھائی بھائی ہیں۔اور آپس میں بڑے گہرے تعلقات رکھتے ہیں۔پس اس قسم کی دوستی پیدا کرنی چاہیے۔بنگالی طلبہ سے دوستی کریں میں نے بتایا ہے کہ دوسروں کی نسبت اس وقت بنگالی طلبہ سے دوستی پیدا کرنے کی زیادہ ضرورت ہے کیونکہ وہ غیر جگہ آئے ہوئے ہیں انہیں چھوٹے چھوٹے ہزار قسم کے سہاروں کی ضرورت پیش آتی ہوگی اور انسان میں اللہ تعالیٰ نے عزت نفس پیدا کی ہے اور غیر جگہ پر انسان بہت ساری تکالیف کو برداشت کر لیتا ہے اور کسی سے ان کا ذکر نہیں کرتا۔لیکن جب اس کے ساتھ کسی کی دوستی کا تعلق ہوگا اور اسے اس کا علم ہوگا تو پھر اسے یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہوتی کہ مجھے یہ چیز چاہیے صرف اس کے دوست کے علم میں یہ بات آنی چاہیے کہ اس شخص کو اس وجہ سے چھوٹی یا بڑی تکلیف لاحق ہے اور پھر جس حد تک اسے ( یعنی دوست کو ) توفیق ہوگی اسے خود ہی دور کرنے کی کوشش کرے گا۔مانگنے کی ضرورت یا بتانے کی نوبت ہی نہیں آتی۔وہ دوستی ہی کیا جس میں کسی چیز کی ضروت کا اظہار کرنا پڑے۔دوسرے میں نے یہ جماعت اسلامی اور دوسری ایسوسی ایشیز کا ذکر اس لئے کیا تھا کہ اگر یہ لوگ ایک حد تک آرام سے زیادہ نمائش کئے بغیر زیادہ شور مچائے بغیر حتی کہ مارشل لاء کے زمانے میں بھی اپنی ایسوسی ایشنز کے کام کر سکتے ہیں تو احمدی کیوں نہیں کر سکتے لیکن اس میں عقل اور حزم اور احتیاط کی بڑی ضرورت ہے ان میں کوئی غلط بات کر جائے تو ایک ایسوسی ایشن پر حرف آتا ہے اور اگر ہم کوئی خلاف قانون بات کر جائیں تو جماعت پر حرف آتا ہے کہ دعوئی تو تمہارا یہ ہے کہ ہم قانون کی پابندی کرنے والے ہیں اور تم نے بھی تربیت کی ہے ایسے نوجوانوں کی۔پس اس سے ساری جماعت بدنام ہو جاتی ہے اس لئے احتیاط کی بڑی ہی ضرورت ہے۔لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ کوئی کام نہیں ہو سکتا۔بہت سا کام اب بھی ہم کر سکتے ہیں۔آپ لوگوں سے دوستانہ تعلق پیدا کریں وہ آپ سے سوال کریں گے۔اس طرح خود ہی تبلیغ کی راہیں کھل جائیں گی۔اسلام تلوار سے نہیں پھیلا تبلیغ کا مطلب ہے تبادلہ خیال کرنا اور اس وقت صرف جماعت احمدیہ ہی ایسی جماعت ہے جو عملاً اس بات کا اعلان بھی کر رہی ہے اور اس بات کا ثبوت بھی بہم پہنچا رہی ہے کہ اسلام کو کسی تلوار یا لاٹھی یا سکے یا چھیڑ یاختی کرنے کی کوئی ضروت نہیں ہے۔یہ تو عیسائیوں نے ایک نہایت ہی خطرناک جال ہماری تاریخ میں ایک زمانہ میں بچھایا اور اس میں بہت سارے مسلمان بھی پھنس گئے اور یہ کہنا شروع کر دیا کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا