مشعل راہ۔ جلد دوم

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 130 of 610

مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 130

دومشعل دوم فرموده ۱۹۶۹ء 130 اار جولائی ۱۹۶۹ء کو بعد نماز مغرب مسجد مبارک میں مجلس خدام الاحمد یہ مرکز یہ کے زیرا ہتمام جاری ہونے والی سولہویں تربیتی کلاس کا افتتاح کرتے ہوئے سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے کلاس میں شامل ہونے والے خدام کو مخاطب کرتے ہوئے ساری جماعت کو بعض قیمتی نصائح سے نوازا۔حضور کی اس تقریر کا متن ذیل میں درج کیا جاتا ہے۔( غیر مطبوعہ ) تشہد ،تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: مجلس خدام الاحمدیہ کی سولہویں تربیتی کلاس کا آج اس وقت میں افتتاح کر رہا ہوں۔گذشتہ سالوں میں خدام الاحمدیہ اپنی اس کلاس کی طرف پوری توجہ نہیں دیتے رہے۔اس لئے میں نے اس دفعہ مرکزیہ سے یہ کہا تھا کہ اگر سو مجالس کے نمائندے کلاس میں شامل نہ ہوئے تو اس کا افتتاح نہیں کروں گا۔مجلس مرکز یہ نے دعاؤں کے ساتھ کوشش کی اور اللہ تعالیٰ نے فضل کیا کہ آج بڑی خاصی تعداد میں خدام اس کلاس میں شامل ہورہے ہیں اور خاصی زیادہ مجالس کے خدام اس میں شامل ہورہے ہیں۔جو نقشہ اس وقت میرے سامنے رکھا گیا ہے۔اس کے مطابق ۱۳۴۵اھش ۱۹۶۶ ء میں اس کلاس میں صرف ۴۱ مجالس نے حصہ لیا تھا۔۱۳۴۶ ھش ۱۹۶۷ء میں صرف ۳۰ مجالس نے اس میں حصہ لیا تھا اور ۱۳۴۷ چش ۱۹۶۸ ء میں، ۷ مجالس نے حصہ لیا تھا اور امسال یعنی ۱۳۴۸ ھش ۱۹۶۹ء میں ۱۳۱ مجالس اس کلاس میں شامل ہو رہی ہیں۔یعنی پچھلے سال سے تقریبا دگنی تعداد میں ہیں۔یہی حال شامل ہونے والے خدام کی تعداد کا ہے۔ربوہ سے صرف پانچ خدام کو اس میں شمولیت کی اجازت دی گئی ہے۔جو خدام باہر کی مجالس سے آئے ہیں۔ان میں سے بعض کو ابھی یہ پتہ نہیں کہ مسجد میں باتیں نہیں کرنی چاہئیں ان کی آواز کی بھنبھناہٹ کانوں کو بُری لگ رہی تھی اور دل کو تکلیف دے رہی تھی لیکن ایک پہلو خوشی کا بھی تھا۔کہ کثرت سے خدام اس کلاس میں شامل ہوئے ہیں۔گو ابھی وہ تربیت چاہتے ہیں اور یہ ہمارا کام ہے کہ ان کی تربیت کریں اور ہم امید رکھتے ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں تربیت حاصل کرنے کی توفیق دے۔عزیز بچو! آپ جانتے ہیں کہ دنیا میں بہت سے لوگ خادم رکھا کرتے ہیں اور جو بڑے امیر لوگ ہیں ان کے بہت سے خادم ہوتے ہیں۔اور وہ امیر ہر ایک خادم سے پوری خدمت لے رہے ہوتے ہیں۔مثلاً جو خادم اپنے آقا کو کھانا کھلانے پر مامور ہے۔اس سے یہ امید رکھی جاتی ہے کہ وہ وقت پر کھانا کھلائے گا۔برتن پوری طرح صاف کرے گا۔ان کی رکابی یا گلاس پر میل کا ذرا سا نشان بھی نہیں ہوگا۔وغیرہ۔غرض بہت سے کام زندگی سے تعلق رکھنے والے اس چھوٹے سے معاملہ کے متعلق اس کے سپرد ہوتے ہیں۔مثلاً اس نے اپنے مالک کو کھانا کھلا نا ہوتا ہے۔مالک پوری تاکید کے ساتھ اسے ہدایتیں دیتا ہے اور اس سے یہ امید رکھتا ہے کہ وہ پوری توجہ محنت