مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 124
دومشعل راه جلد دوم فرموده ۱۹۶۸ء 124 چیزوں کیلئے تو اتنی غیرت اور جوش ہوتا ہے لیکن جو روحانی نعمتیں اللہ تعالیٰ نے دی ہیں ان کیلئے اتنا جوش بھی نہیں پایا جاتا کہ ہم نے انہیں ضائع نہیں ہونے دینا۔پس یہ عہد ہونا چاہیے۔یہ پختہ ارادہ ہونا چاہیے۔یہ کوشش ہونی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے جو نعمتیں ہمیں عطا کی ہیں انہیں ضائع نہیں ہونے دینا۔خدا تعالیٰ کہتا ہے پاکیزہ جسم سے رہو جس کا جسم پاکیزہ نہیں ہوگا وہ ہمارے ماحول میں نہیں پنپ سکے گا۔ہم اسے اپنے باغ میں داخل نہیں ہونے دیں گے جن کے خیالات پاکیزہ نہیں ہوں گے ان کو بھی ہم اجازت نہیں دیں گے کہ وہ ہمارے باغ میں آکر اس کی خرابی کا باعث بنیں۔جس طرح دیمک مادی درختوں کو کھا جاتی ہے اسی طرح یہ دیمک ہے جو روحانی درختوں کو کھا جاتی ہے۔اس لئے ہمیں بھی فکر ہے اور آپ کو بھی یہ فکر ہونی چاہیے۔ہم یہ جانتے ہیں کہ آپ حقیقتا محمد رسول صلى الله اللہ عیہ کے بچے ہیں اور آپ کے دل میں بھی ہمیشہ یہ احساس زندہ اور بیدار رہنا چاہیے کہ آپ نبی اکرم ہی اللہ کے بچے ہیں اور آپ کی نسل میں بھی اور آپ کی زندگی کے اس حصہ میں بھی نیکی کی بنیادیں قائم ہونی چاہئیں اور آپ کو کوشش کرنی چاہیے کہ آپ محمد رسول اللہ ﷺ کی ذریت طیبہ بن جائیں۔ایک ایسی پاک اور صاف نسل بن صلى الله و جائیں جس پر آنحضرت ﷺ فخر کریں اور ساری دنیا (ہم سب نے قیامت کے دن اکٹھے ہو جانا ہے ) سے کہیں تم دیکھتے ہو میری اس امت کو۔دوسرے بچے اپنی نا مجھی اور جہالت کی وجہ سے ہر قسم کے گند میں ملوث تھے۔ان کے جسم اور کپڑے غلیظ تھے۔ان کے اخلاق ، ان کے اقوال، ان کی باتوں اور ان کے کاموں میں گندگی نظر آرہی تھی لیکن اس وقت بھی میرے یہ بچے اتنے صاف ستھرے تھے کہ تم اس کا تصور نہیں کر سکتے۔آپ غیر قوموں کو مخاطب کر کے کہیں گے کہ دیکھو میری برکت سے اور میرے فیوض سے اللہ تعالیٰ نے جو نعمتیں جاری کی تھیں ان کے نتیجہ میں اس عمر میں بھی ان بچوں کو خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے یہ سمجھ دی تھی کہ کوئی گندگی ان کی زندگیوں میں داخل نہ ہواور وہ ہمیشہ خدا تعالیٰ کی نظر میں پاک اور ستھرے بچے رہیں اور اس میں وہ کامیاب ہوئے اور دیکھو میری امت کو اس کے کتنے انعامات مل رہے ہیں۔پہلی امتیں ان انعامات کے قریب بھی نہیں آئیں۔ان کے انعامات امت محمدیہ کے انعامات کے مقابلہ میں اتنے تھوڑے ہیں کہ ان کا ان سے مقابلہ نہیں کیا جاسکتا۔غرض ہمیشہ یہ سوچتے رہا کرو ہمیشہ یہ دعائیں کرتے رہا کرو اور ہمیشہ یہ کوشش کرتے رہا کرو کہ اللہ تعالی آپ کو محمد رسول اللہ ﷺ کے ایسے بچے بنائے کہ آپ ﷺ آپ بچوں پر فخر کریں اور وہ نیکی کی بنیادوں کو آپ میں قائم کر کے آپ کو ذریت طیبہ بنادے اور آپ دین اور دنیا کی نعمتوں کے وارث ہوں اور اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رحمت کا سایہ آپ پر رکھے۔اللھم آمین۔اس کے بعد حضور نے حاضرین سمیت لمبی اور پر سوز دعا فرمائی۔روزنامه الفضل ربوه ۱۳ ، نومبر ۱۹۶۹ء)