مشعل راہ۔ جلد دوم — Page 108
فرموده ۱۹۶۸ء 108 د دمشعل را کل راه جلد دوم امت ہو جو تمام پہلے انبیاء کی امتوں سے بہتر اور بزرگ تر ہے اور آپ جو امت مسلمہ کے نوجوان ہیں آپ کو میں یہ کہتا ہوں کہ اپنے مقام کو پہچانیں کیونکہ آپ کی عمر کے نوجوان تو پہلی امتوں میں بھی گزرے ان قوموں میں بھی گزرے جو اپنے انبیاء کی تعلیم کو بھول چکی تھیں اور خدا سے دور جا پڑیں تھیں۔اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان کا کوئی زندہ تعلق نہ رہا تھا۔القوى الامين پس عمر کی جوانی تو کوئی شے نہیں لیکن اس عمر میں بھی اس امت مسلمہ کی طرف منسوب ہونا جسے اللہ تعالیٰ نے خیر الام قرار دیا ہے۔کوئی معمولی مقام نہیں ہے۔جس پر آپ کو کھڑا کیا گیا ہے۔اس لئے جو ذمہ داریاں آپ پر عائد ہوتی ہیں انہیں سمجھنے اور ان ذمہ داریوں کو پوری کوشش اور پوری جد و جہد سے نباہنے کی طرف آپ کو متوجہ ہونا چاہیئے اور بنیادی طور پر دو خصوصیتیں آپ کے اندر پیدا ہونی چاہئیں جو اس آیت کریمہ میں بیان ہوئی ہیں کہ اِنَّ خَيْرَ مَنِ اسْتَأْجَرُتَ الْقَوِيُّ الاَمِينُ جب حضرت موسی علیہ السلام مدین کے پانی پر اپنے تربیتی اور مجاہدانہ سفر میں پہنچے تو وہاں خدا تعالیٰ کی حکمت کا ملہ نے آپ کو ایک نیکی کی توفیق عطا کی اور وہ یہ کہ کچھ عورتیں اپنے جانوروں کو پانی پلانا چاہتی تھیں۔لیکن چونکہ ان کے ساتھ کوئی مرد نہ تھا اس لئے وہ ایک طرف کھڑی ہوئی اس بات کا انتظار کر رہی تھیں کہ جب مرد چلے جائیں تو پھر آرام سے اپنے جانوروں کو پانی پلائیں۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان کی مدد کی اور ان کے جانوروں کو پانی پلا دیا جب وہ اپنے گھر گئیں تو انہوں نے اپنے والد سے کچھ باتیں کی ہونگی ان باتوں میں سے بعض باتیں اصولی تھیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی کامل کتاب میں پر حکمت زبان میں بیان کیا ہے اور ایک چھوٹے سے فقرہ میں بیان کیا ہے کہ ان میں سے ایک لڑکی نے اپنے والد سے کہا کے جسے خادم رکھنا ہو اُس کے متعلق پر دیکھ لینا چاہیے کہ وہ السقوی اور الامین ہے یا نہیں کیونکہ بہتر خادم وہی ہوا کرتا ہے جو قوی اور امین ہو۔جب ایک شخص کسی کو خادم رکھتے ہوئے ان دو صفات کو دیکھتا ہے تو وہ جو خدا کے خادم بننے کا دعویٰ کرتے ہیں انہیں اپنے اندر ان صفات کو بدرجہ اولی پیدا کرنا چاہئیے ایک القوی اور دوسرے الا مین ہونا۔اسی طرح بالواسطہ امت مسلمہ کے خدام کا ذکر قرآن کریم میں آجاتا ہے۔کیونکہ جو اجرت پر رکھا جاتا ہے۔وہ خادم ہوتا ہے اور اگر چہ اللہ تعالیٰ سے انسان اجرت تو مقرر نہیں کروا تا کہ اس کا حق نہیں لیکن اللہ تعالیٰ جو بے انتہاء فضل اور رحم کرنے والا ہے اس نے اپنے بندوں سے یہی وعدہ کیا ہے کہ اگر تم میری خدمت میں مصروف رہو گے تو میرے انعامات کے وارث بنتے چلے جاؤ گے۔القوی اور الامین کے جو معنی اس لڑکی کے دماغ میں آئے ہوں یا اُس کے والد کے دماغ میں آئے ہوں وہ تو محدود ہی ہو نگے لیکن جس معنی میں قرآن کریم نے ان الفاظ کو بیان کیا ہے وہ ایسے معنی ہیں کے خدام الاحمدیہ کے سارے پروگرام پر حاوی ہیں۔