مسیح کشمیر میں

by Other Authors

Page 30 of 128

مسیح کشمیر میں — Page 30

30 سے بعد کے جو ترجمے اردو زبان میں ملتے ہیں وہ اس ترجمہ سے کافی مختلف ہیں۔ان ترجموں کو اپنے عقائد کے مطابق رومن کیتھولک اور پروٹسٹوں نے ڈھالنے کی کوشش کی ہے۔ہم اس انگریزی ترجمہ میں یہ پاتے ہیں کہ مسیح ضرور زخمی ہوا، ستایا اور دکھ دیا گیا، مارا اور پیٹا گیا۔زخمی ہونے کے علاوہ نمگین ہوالیکن وہ قید سے بھی نکال لیا گیا اور موت کے فتویٰ سے بھی بچالیا گیا البتہ اس نے اپنی جان کو خاموشی سے دشمنوں کے حوالے کر دیا اور موت تک پہنچ کر بچ گیا۔پھر اس نے ہجرت کی اور اسکے ہاں اولا د ہوئی لیکن فلسطین والے اسکی اولاد کو نہیں جانتے تھے اس نے اپنی جان کے مصائب دیکھے لیکن وہ مطمئن رہا۔اس نے لوگوں کا ظلم اور گناہ برداشت کیا اور چپ رہا۔اسکی قبر شریروں کے درمیان بنائی گئی۔یہ وہ کمرہ نما قبر ہے جس میں واقعہ صلیب کے بعد حضرت مسیح کو یہودیوں کے قبرستان میں غشی کی حالت پر رکھا گیا اور پھر وہ ہوش میں آنے کے بعد وہاں سے نکل گئے۔دوسری قبر وہ ہے جو طبعی موت کے وقت نیک لوگوں میں بنائی گئی۔یہ قبر کشمیر میں جو شہر سرینگر کے محلہ خانیار میں یوز آسف کے مقبرہ کے نام سے آج تک موجود ہے۔جہاں نیک لوگ اور اولیاء اللہ مدفون ہیں۔اس میں آپ طبعی وفات پانے کے بعد دفن ہوئے۔یہ قبر مشرق سے مغرب کی طرف ہے جیسا یہودیوں کا دستور ہے نہ مسلمانوں کے طریق کے مطابق شمالاً جنوباً۔آیت 9 میں جو شریروں اور امیروں کا ذکر ہے اس جگہ امیر سے مراد شریر کے مقابلہ میں اخلاق و روحانیت کے لحاظ سے امیر مراد ہیں ورنہ دنیا وی دولت تو شریروں کے پاس بھی بہت ہوتی ہے۔جہاں مسیح کی قبر ہے اس جگہ بعض سادات اور اولیاء اللہ کی بھی قبریں ہیں۔آیت 8 کا یہ فقرہ کہ وہ قید سے نکالا گیا اور سزا کے فتوے سے بھی ، کون اسکی نسل بتائے گا کیونکہ وہ زندوں کے یا قبائل کے علاقہ سے بوجہ ہجرت الگ کیا گیا تھا۔مسیح کے قید سے نکلنے اور موت کے فتویٰ سے بچ جانے اور اپنے قبائل کی سرزمین سے علیحدہ ہو جانے اور نئی نسل کا بانی ہونے کا ذکر ہے جس کا تعلق ہجرت سے ہی ہوسکتا ہے کیونکہ باقی زندگی حضرت مسیح نے فلسطین میں نہیں گزاری کہ وہاں انکی نسل پیدا ہوتی۔آٹھویں آیت میں ہے کہ وہ میرے بندوں کی حکم عدولی کی وجہ سے مضروب ہوا، کیتھولک بائیبل میں STRICKEN کا ترجمہ اردو میں مضروب کی بجائے مقتول کر دیا گیا ہے۔پروٹسٹنٹ بائیل میں اس کا ترجمہ ” مار پڑی کیا گیا ہے اور یہ ترجمہ درست ہے۔آیت نمبر 7 میں صاف لکھا گیا ہے کہ وہ زخمی کیا گیا اور لوگوں (یہودیوں) کی بد عملی سے گھائل کیا گیا نہ کر قتل۔پس اس پیشگوئی کے مطابق اسی زمین پر رہ کر مسیح کا درازی عمر پانا اور اپنی نسل دیکھنا اور خدا کی مرضی کا اس کے ہاتھ سے کامیاب ہونا اس بات پر