مسیح کشمیر میں

by Other Authors

Page 59 of 128

مسیح کشمیر میں — Page 59

ہوئے لکھا: 59 59 اٹلی شہر ٹیورن (TURIN) میں مسیح علیہ السلام کا وہ کفن موجود ہے جس میں مسیح علیہ السلام کو صلیب سے اتارنے کے بعد لپیٹا گیا تھا۔صلیب سے اتارنے کے بعد جسم پر خون کے مختلف دھبے اور جسم پر لگائی جانے والی مرہموں اور دینیات کے نشانات موجودہ زمانہ کی ترقی یافتہ فوٹو گرافی کی روشنی میں واضح طور پر ثابت کر رہے ہیں کہ مسیح کو جب صلیب سے اُتارا گیا تو آپ اس وقت زندہ تھے۔سائنسدانوں نے اپنی تحقیق سے پوپ کو مطلع کر دیا ہے مگر پوپ اب تک خاموش ہے کیونکہ اس تحقیق کے نتیجہ میں کیتھولک چرچ کی مذہبی تاریخ کا وہ اہم راز منکشف ہو کر رہ گیا ہے جس پر انکے بنیادی عقائد کی اساس تھی۔تصویر کشی کے فن کی مدد سے سائنسدانوں نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ جس واقعہ کو لوگ دو ہزار سال سے ایک معجزہ خیال کرتے تھے ( مسیح کا دوبارہ جی اٹھنا) وہ بالکل طبعی واقعہ تھا۔اس حقیقت سے عیسائی دنیا کو انکار نہیں کہ یہ کپڑا واقعی مسیح کا کفن ہے۔پوپ PUIS-IX نے اس کپڑے سے حاصل شدہ تصویر کو دیکھ کر کہا کہ یہ کسی انسانی ہاتھ کی بنائی ہوئی نہیں۔انا جیل کا بیان ہے کہ مسیح نے صلیب پر جان دیدی مگر سائنسدان مصر ہیں کہ انکے دل نے عمل کرنا بند نہیں کیا تھا۔کپڑے کا خون جذب کرنا بتا تا ہے کہ مسیح صلیب سے اتارے جانے کے وقت زندہ تھے۔“ مندرجہ بالا تبصرہ سکنڈے نیویا کے اخبار Stock Holm Tidiningen Chirist Ideriumed نے اپنی 12 اپریل 1957ء کی اشاعت میں کیا ہے۔نیویارک (امریکہ ) سے حال ہی میں اس سلسلہ میں ایک اور کتاب The Holy Shroud مقدس کفن شائع ہوئی ہے اس میں تسلیم کیا گیا ہے کہ کفن پر آنیوالی منفی تصویر کا تصور تو کیمرہ کی ایجاد کے بعد پیدا ہوا ہے اور کفن کی چادر کیمرہ کی ایجاد سے پہلے ہی موجود تھی۔الغرض پچھلے چند سالوں میں بہت سے مستشرقین اور تاریخ دانوں نے حضرت عیسی علیہ السلام کی زندگی صلیبی موت سے نجات ، واقعہ صلیب کے بعد مشرق کی طرف انکا سفر اور کشمیر میں عیسائی آثار کی موجودگی پر برابر کتا بیں لکھی ہیں اور لکھی جارہی ہیں۔کفن میسج پر تحقیق کیلئے لنڈن میں عیسائیوں کی ایک بین الاقوامی کانفرنس ہو چکی ہے اور آئندہ بھی ہونے والی ہیں۔مکتوب یروشلم آثار قدیمہ کی اور زبردست شہادت جس سے ہمارے پیش نظر دعوے کی تائید ہوتی ہے مکتوب یروشلم