مسیح کشمیر میں

by Other Authors

Page 49 of 128

مسیح کشمیر میں — Page 49

49 یوحنا ( یحیی علیہ السلام) کے ماں کی طرف سے خالہ زاد بھائی تھے اور انہیں اپنا بزرگ بھی جانتے تھے اور انکے ساتھ رہتے تھے۔چنانچہ یوحنا ہی نے آپ کو دریائے پرون کے کنارے پانی سے بپتسمہ دیا۔اس بپتسمہ کے بعد ہی آپ پر روح القدس نازل ہوا جس نے آپ کو خدا کی طرف سے پیارا ہونے کی بشارت دی تھی۔انا جیل فریسی یہودیوں کا تو ذکر کرتی ہیں لیکن تعجب ہے کہ ایسینی برادری کے ذکر سے وہ بالکل خاموش ہیں۔لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ ایسینیوں کی بہت بڑی برادری تھی اور بحیرہ مردار پر انکی بستیاں تھیں اور انکے افراد تمام ملک میں مختلف اطراف میں پھیلے ہوئے تھے۔یوسف ارمنیا اور حکیم نقاد یمس بھی دراصل اسی برادری کے ممبر تھے اور یسوع کی مخفی زندگی سے واقف تھے کہ یہ زندگی انہوں نے ایسینیوں میں گزاری۔چونکہ یسوع مسیح اس برادری سے اپنے تعلق کو مخفی رکھنا چاہتے تھے شاید اسی لئے انہوں نے اپنی مخفی زندگی پر روشنی نہیں ڈالی۔یہ بھی ممکن ہے انہوں نے روشنی ڈالی ہو مگر انجیل نویسوں نے کسی خاص مصلحت کے تحت آپ کی 18 سالہ مخفی زندگی کا ذکر نہیں کیا۔حال ہی میں محمد یسین صاحب آف سرینگر (کشمیر) نے انگریزی زبان میں ”مسٹریز آف کشمیر کے نام سے ایک کتابچہ لکھا ہے جو نکولس نوٹو وچ کے اس بیان کے مؤید نظر آتے ہیں کہ مسیح کی مخفی زندگی واقعہ صلیب سے قبل ہندوستان ، لداخ اور تبت کے بدھوں میں گزری۔انہوں نے یہ تحقیق نہیں کی کہ نوٹو وچ نے کن مجبوریوں کے تحت واقعہ صلیب سے بعد کی زندگی کو اس واقعہ سے قبل کی زندگی قرار دے دیا ہے۔اگر وہ کر وسیفیکیشن بائی این اے وٹنس ( مکتوب یوروشلم) کا گہری نظر سے مطالعہ کرتے تو انہیں مسح کی مخفی زندگی کے بارہ میں نوٹو وچ کے بیان سے ضرور اختلاف ہوتا۔ین صاحب کا خیال یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ مسیح علیہ السلام مری کے راستہ سے کشمیر چلے گئے تھے کیونکہ وہ انکی والدہ کی دوران سفر مری میں جو راولپنڈی کے قریب ہے ، وفات پانے کا ذکر کرتے ہیں۔اس سے ظاہر ہے کہ وہ مسیح کو مری کے راستے کشمیر پہنچاتے ہیں لیکن ان کا یہ بیان واقعاتی نہیں ہے اور بعض تاریخی واقعات سے غیر مطابق ہے۔جن کا بیان گزر چکا ہے۔تاریخ سے ثابت ہے کہ مسیح علیہ السلام ٹیکسلا سے بنارس چلے گئے اور وہاں بت پرستی کے خلاف انہوں نے لیکچر دئے۔جس پر بنارس کے ہندو ان کے دشمن ہو گئے اور انکے خلاف قتل کی سازش کی جب مسیح کو انکے اس ارادہ کا کسی طرح ( کسی شخص کے ذریعہ یا بذریعہ الہام الہی ) پتہ چل گیا تو وہ بنارس سے نیپال