مسیح کشمیر میں — Page 77
77 مثالی وجود تھا جو بڑا ہونے کی وجہ سے کبوتر کا خوفناک روپ دکھائی دیتا تھا۔” نے گیا“ سے کیا مراد ہے اس اقتباس میں دعاؤں میں جو " نے گما کا ذکر آیا ہے ”جیز زان روم“ کے مصنفین کے نزدیک اس سے مراد ہندوؤں کی مذہبی کتا بیں نہیں۔ممکن ہے اس سے بائیل مراد ہو۔ہم اس نوٹ پر مستزاد کرتے ہیں کہ ” نے گا“ سے مراد زبور کا نغمہ (گیت) ہے۔مسیح نے آرامی یا عبرانی لفظ نغمہ ہی استعمال کیا ہوگا جسے ہندوؤں نے سنسکرت لہجہ میں نے گما لکھ دیا ہے۔کیونکہ اکثر ہند و نین کو گاف کی آواز میں ادا کرتے ہیں۔اور زکوج کی آواز میں اور واؤ کو ب کی آواز میں۔اس کہانی میں جو یہ لکھا ہے کہ خدا تعالیٰ خود غیر متحرک ہے اور سورج کی طرح ہمیشہ غلطی کرنے والی مخلوق کی روح کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔اس میں بھی ہندوانہ مذہبی تصور کا اثر ہے کیونکہ ہند وسورج کو اندر دیوتا جانتے ہیں۔مسیح نے خدا کے تصرف کے بطور تمثیل سورج کی طرح قرار دیا ہوگا کہ جیسے سورج ظلمت اور تاریکی کو دور کرتا ہے اور دنیا کو ٹھوکریں کھانے سے بچاتا ہے۔اسی طرح خدا بھی مخلوق کو اپنی روحانی روشنی سے اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔ماسی دیوی ( روح القدس ) کے غائب ہونے کے بعد جو یہ ذکر ہے کہ بابرکت ایسا کی تصویر جو برکت دینے والی ہے چونکہ ہمیشہ میرے دل میں تھی میرا نام عیسی مسیح رکھا گیا۔اس میں ایسا کی تصویر سے مراد خدا کی تصویر ہے جسے ہندوانہ میتھالوجی ( علم الاصنام ) کے مطابق ایسا دیوتا سمجھ لیا گیا ہے۔جیز زان روم میں اقتباس دیتے ہوئے ایسا‘ کے آگے بریکٹ میں GOD لکھا گیا ہے۔ہم کہہ نہیں سکتے کہ یہ بریکٹ مصنف "جیز زان روم کا ہے یا پروفیسر کو سامی کا۔بہر حال کسی کا ہو ، یہی بات عیسائی مذہب کی رو سے درست قرار دی جاسکتی ہے۔بہت ممکن ہے کہ اس جگہ سہو کتابت بھی واقع ہوئی ہو اور الیش کو عیسی سمجھ لیا گیا ہو۔جس کے معنی ایشوریا خدا کے ہیں۔یہودیوں کا پھیلاؤ بھوش پر ان کے مطابق بنی اسرائیل ہندوستان کے کثیر حصوں میں پھیلے ہوئے تھے۔چنانچہ بھوش پیران میں لکھا ہے کہ: سرسوتی ندی کے پوتر برہم ورت کے ماسواسارا جگت ملیچھ چار یہ حضرت موسیٰ کے پیروؤں سے بھرا پڑا ہے۔“ پرتی سرگ پرب کھنڈا۔ادھیائے 5 شلوک 30)