مسیح کشمیر میں — Page 76
76 ملاقات کا امکان ہے۔ہم اپنے اس خیال کو ترجیح دیتے ہیں کہ بہت ممکن ہے کہ مسیح سے ملاقات راجہ گو پانند کی دین مقام پر ہوئی ہو جو سرینگر سے دس میل کے فاصلہ پر گندھک کے چشموں والا مقام ہے۔جسے مہا پر ان کے پروفیسر کو ساممی کی پیش کردہ اقتباس میں اس راجہ کے متعلق ہے کہ اس نے اس بابرکت آدمی کو بے رحموں کی سرزمین میں بسا دیا تھا۔مہا پر ان لکھنے والا متعصب ہند و تعصب کی وجہ سے کنشک کی اس بدھ حکومت کی سرزمین کو ” بے رحموں کی سرزمین قرار دیتا ہے کیونکہ وہ ان لوگوں کو غاصب جانتا ہے۔اس بات کا بھی امکان ہے کہ مسیح کی ملاقات کو ساممی کی رائے کے مطابق کنشک سے ہوئی ہواور کنشک نے اپنے ماتحت راجہ گو پانند کے علاقہ میں سرینگر کے مقام پر بھجوا دیا ہواور وہیں بسا دیا ہو۔اگر یہ تاریخی حقیقت درست سمجھی جائے جس کے درست ہونے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی تو ہمارے نزدیک دین مقام پر یوز آسف یا عیسی مسیح سے گو پانند کی ملاقات ترجیح رکھتا۔ہے۔اھا ماسی دیوی سے کیا مراد ہے اس اقتباس کے اس حصے پر جس میں اھا ماسی کے خوفناک روپ میں ظاہر ہونے کا ذکر ہے۔جیز زان روم“ کے مصنفین نے بطور تشریح لکھا ہے کہ اس اقتباس کی کہانی ایک افسانوی رنگ رکھتی ہے۔ملیچھوں کے واعظ مسیح سے صاف طور پر یسوع مسیح مراد ہے جسے سنسکرت علم الانساب کے مطابق ڈھالنے کا اردہ کیا گیا ہے۔اس میں دیوی ماسی کا ذکر محض ایک اختراع ہے جس کا کسی اور جگہ کہیں ذکر نہیں ہے یہ رائے ان مصنفین کی درست ہے لیکن ہم اس پر اتنا اضافہ کرنا چاہتے ہیں کہ اس بناوٹ اور اختراع میں سناتن دھرمی ہندوؤں کے مذہبی تصورات کا اثر پایا جاتا ہے۔مسیح نے یہ کہا ہوگا جیسا انجیل میں بھی مذکور ہے کہ خدا کی طرف سے مبعوث ہونے پر اس پر روح القدس" نازل ہوا جسے عیسائی تو خدا کی ایک تیسری اقنوم اور مسلمان خدا کی طرف سے وحی لانے والا فرشتہ جانتے ہیں۔اس سے ملتا جلتا تصور سناتنی ہندوؤں میں دیوی دیوتاؤں کا ہے جنہیں وہ خدائی کا موں میں متصرف جانتے ہیں لیکن اذن الہی سے نہ کہ ذاتی طور پر اس کہانی میں مہا پر ان کے لکھنے والے نے روح القدس کا نام اس کے نزول کی حقیقت کو نہ جانے کی وجہ سے مسیح بنانے والی دیوی رکھ دیا ہے۔میسج پر روح القدس کا نزول انجیل کی رو سے کبوتر کے مثالی وجود میں ہوا تھا پر ان کی کہانیوں میں اس نزول کو خوفناک روپ میں قرار دیا گیا ہے اسلئے اس بات کا امکان ہے کہ یہ بیان اس حد تک سچا ہو کہ جب مسیح پر کبوتر کی مثال میں روح القدس کا نزول ہوا تو وہ بہت بڑے مجسم کبوتر کا