مسیح کشمیر میں

by Other Authors

Page 60 of 128

مسیح کشمیر میں — Page 60

60 ہے جو 1873ء میں مصر میں شہر اسکندریہ کے آثار قدیمہ کے ایک قدیم یونانی راہب خانے سے واقعہ صلیب کے تھوڑا ہی عرصہ بعد کا لکھا ہوا ملا ہے۔یہ خط ایسینی فرقہ کے ایک راہب نے اپنی جماعت کے 66 ایک رکن کو یروشلم سے اسکندریہ بھیجا تھا تا کہ واقعہ صلیب مسیح کے متعلق غلط فہمیوں کا ازالہ ہو۔یہ مکتوب 1907ء میں امریکن بک کمپنی شکا گونے Crucifixion by An Eye Witness یعنی واقعہ صلیب کی چشم دید شہادت“ کے نام سے شائع کیا ، اصل مکتوب لاطینی زبان میں ایک ایسے کمائے ہوئے چمڑے پر لکھا گیا تھا جو اس غرض سے قدیم زمانہ میں استعمال ہوتا تھا۔انگریزی مترجم نے مقدمہ میں اس مکتوب کے بارے میں عیسائی دنیا کے اضطراب کا ذکر کیا ہے کہ کس طرح اس مکتوب کے ضائع کرنے کی کوششیں ہوتی رہی ہیں۔مترجم نے لکھا ہے کہ امریکہ میں سب سے پہلے 1873ء میں ایک جرمن نے اس مکتوب کا انگریزی ترجمہ شائع کیا۔جو نبی یہ کتاب پریس سے پبلشر کے پاس پہنچی ایک منظم سازش کے ماتحت سب نسخے واپس لے کر ضائع کر دئے گئے۔یہاں تک کہ پریس سے اس کی پلیٹیں حاصل کی گئیں اور انکو ضائع کر دیا گیا لیکن خوش قسمتی سے ایک امریکی سٹیٹ میں ایک شائع شدہ کاپی کسی شخص کے پاس محفوظ رہ گئی جو اتفا قا35 سال بعد 1907ء کے موسم گرما میں اسکی بیٹی کی نظر سے گزری۔اس عورت کو علم تھا کہ مجھے ( مترجم کو ) فری میسنز کی ایسی کتابوں سے دلچسپی ہے۔چنانچہ اس نے کمال نوازش سے یہ کاپی مجھے بھیج دی۔مترجم لکھتا ہے کہ مجھے خیال تھا کہ اسکی سرکاری کا پیاں ضرور محفوظ ہونگی مگر کانگریشنل لائبریری میں چھان بین پر معلوم ہوا کہ وہاں سے بھی یہ کاپیاں غائب کی گئیں تھیں۔اصل لاطینی مکتوب کا نسخہ جرمنی کی ایک سوسائٹی کے پاس محفوظ ہے۔1907 ء کے مذکورہ امریکی ایڈیشن کا عکسی نسخہ 1977ء میں محترم سید عبدالحئی صاحب نے لاہور سے شائع کر دیا ہے۔1913ء میں اسکا اردو ترجمہ پہلے میاں معراج دین صاحب مرحوم نے شائع کیا اور بعد میں اسے دوبارہ حکیم عبداللطیف مرحوم ربوہ نے بھی شائع کیا۔اس طرح ان بزرگوں کی کوششوں سے یہ مکتوب مشرقی دنیا میں بھی متعارف ہے۔اس خط میں جو انگریزی ترجمہ کے دو سو صفحات ( درسی کتب کے سائز) پر مشتمل ہے۔وضاحت سے حضرت مسیح کے صلیب سے بیہوشی کی حالت میں زندہ اتارے جانے اور آپ کے زخموں کا ایسینی طبیب نقد میموس کے مخفی علاج کرنے کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں اور یہ کہ صحت یاب ہونے پر وہ کس طرح خفیہ طور