مسیح کشمیر میں

by Other Authors

Page 58 of 128

مسیح کشمیر میں — Page 58

58 58 نے اسے کونٹ جیو فری ڈو چارنی کے قبضہ میں دیدیا۔چارنی نے اسے لاٹرے“ کی مذہبی درسگاہ میں احتیاط سے رکھوایا۔یہاں سے یہ کفن ڈیوک آف سیوائے کی بیوی کو اس خاندان کے آخری فرد کی وساطت سے جو ایک عورت تھی 1452ء میں بطور تحفہ دیا گیا۔ڈیوک آف سیوائے نے چیمبری ( حکیم ) میں ایک گر جا بنوا کر اس کفن کو وہاں رکھا۔1532ء میں اس گر جا کو بھی آگ لگ گئی اور چاندی کا وہ صندوق جس میں یہ مقدس کفن محفوظ رکھا گیا تھا آگ سے پگھل گیا اور پکھلی ہوئی چاندی اس تہہ شدہ کفن کے کناروں پر گری جس سے کفن کے تہہ شدہ کو نے جل گئے۔کفن کے جلے ہوئے کپڑے کو کلیسیا کی بعض ننوں ( وقف عورتوں ) نے مرمت کر کے درست کیا۔بالآخر یہ کفن شہر ٹیورن (TURIN) میں 1578ء میں لایا گیا۔جہاں اسے شاہی گرجا میں جو خاص طور پر اس کیلئے بنوایا گیا تھا، احتیاط سے رکھا گیا۔اس کی عام زیارت نہیں کرائی جاتی تھی اور خاندان سیوائے ( جو کسی وقت اٹلی میں حکمران تھا) کی اجازت کے بغیر کسی کو دکھایا نہیں جاتا تھا۔1898ء میں یہ کفن پہلی بار عام لوگوں کو دکھانے کیلئے نکالا گیا اور اس وقت اسکی تصاویر لی گئیں۔اس کے بعد 1931ء میں دوبارہ نمائش ہوئی جیسا اوپر گزرا۔سائنٹفک محققین کے مطابق جب مسیح کو اس کفن میں لپیٹا گیا تھا تو ساتھ ہی مُر اور ایلوس کا پوڈر بھی چھڑ کا گیا۔اس سے کاربونیٹ آف ایمونیم پیدا ہوا۔جسم کی گرمی اور رطوبت انجرات کی وجہ سے وہی کیفیت پیدا ہوگئی جس سے تصویر بن سکتی ہے اس طرح کپڑے پر مسیح کے سرتا پا کا نیگیٹیو منعکس ہو گیا۔اس منفی نقش کو ترقی یافتہ فوٹو گرافی کی مدد سے جب اجاگر کیا گیا تو حیران کن باتیں ظاہر ہوئیں جو آج تک مخفی تھیں اور حوادث صلیب کی اتنی مکمل تصویر بن گئی کہ اس مقدس چادر کو قدیم چارا نجیلوں کے بعد پانچویں انجیل کا نام دیا گیا۔چادر کے نقوش ثابت کر رہے ہیں کہ حضرت مسیح بظاہر مردہ نظر آرہے تھے مگر ان کا دل حرکت کر رہا تھا اور بدن میں خون بھی پمپ کر رہا تھا۔پس یہ امر حضرت مسیح کے صلیب سے زندہ اترنے کی ایسی یقینی دلیل ہے جس کے متعلق عیسائیوں کا یہ خیال کوئی وقعت نہیں رکھتا کہ مسیح نے صلیب پر جان دی اور اس سے قرآن پاک کی صداقت اور مسیح محمدی کے تازہ انکشاف کی تصدیق پر ایک زبردست شہادت مل رہی ہے۔جرمن سائنسدانوں کی ایک پارٹی نے آٹھ سال تک مسیح کے اس مقدس کفن پر تحقیقات کر کے 1957ء میں دنیا کو اپنی تحقیقات کے نتائج سے آگاہ کیا جس کی پوری تفصیل کرٹ برنا ( KURT BERNA ) کی تصنیف ”داس لینن سے ملتی ہے۔اس کتاب پر سکنڈے نیویا کے اخبار نے تبصرہ کرتے