مسیح کشمیر میں

by Other Authors

Page 50 of 128

مسیح کشمیر میں — Page 50

50 50 کی طرف چلے گئے اور وہاں سے تبت پہنچ کر کشمیر میں داخل ہوئے۔حضرت بانی سلسلہ احمدیہ علیہ السلام نے بھی اپنی کتاب راز حقیقت کے صفحہ 9 پر یہی تحقیق درج فرمائی ہے اور لکھا ہے: تحقیقات سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے واقعہ صلیب سے نجات پا کر ضرور ہندوستان کا سفر کیا اور نیپال سے ہوتے ہوئے آخر تبت تک پہنچے اور پھر کشمیر میں ایک مدت تک ٹھہرے اور وہ بنی اسرائیل جو کشمیر میں بابل کے تفرقہ کے وقت میں سکونت پذیر ہوئے تھے انکو ہدایت کی اور آخر ایک سو بیس برس کی عمر میں سرینگر میں انتقال فرمایا اور محلہ خانیار میں مدفون ہوئے۔“ قمر مریم وو راز حقیقت ، روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 161) مسٹر یاسین صاحب نے اپنی کتاب ”مسٹریز آف کشمیر کے آخر میں ”ٹومب آف مری“ کے عنوان کے تحت قرآنی آیت وَ اوَيْنَا هُمَا إِلَى رَبوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَسَعِین کا ترجمہ دے کر حضرت مریم کے حضرت مسیح کے ساتھ ہجرت کرنے کا ذکر کیا ہے مگر اس جگہ یہ لکھا ہے کہ مریم راستہ میں فوت ہو گئیں اور وہ پنڈی پوائنٹ مری میں مدفون ہیں۔بے شک حضرت مفتی محمد صادق نے بھی مری پر جو جگہ پنڈی پوائنٹ پر مریم کی ڈھیری“ کے نام سے موسوم ہے اسے حضرت مریم کی قبر لکھ دیا تھا مگر بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہاں مریم ٹھہری تھیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ مریم مگر لینی مسیح کی تلاش میں یہاں ٹھہری ہوں یا وفات پاگئی ہوں کیونکہ امریکی سیاح مسٹرر ورک کی تحقیقات سے یہ ثبوت ملتا ہے کہ حضرت مسیح کی والدہ حضرت مریم کا مزار کاشغر میں موجود ہے اور لوگوں کیلئے بڑی زیارت گاہ ہے جس کا ذکر تفصیل سے آگے آئے گا اور یہ بھی واقعہ ہے کہ قدیم زمانہ میں کاشغر کشمیر کا حصہ تھا اور راجہ کشمیر کے ماتحت تھا۔پس وثوق سے کہا جاسکتا ہے کہ حضرت مریم کی وفات مسیح کے ساتھ کسی سفر کے دوران میں جبکہ حضرت عیسی علیہ السلام کا شغر کے بنی اسرائیل کو تبلیغ کیلئے گئے ہوئے تھے واقع ہوگئی اور وہ کا شغر میں مدفون ہوئیں۔مری میں انکی وفات آیت وَا وَيْنَا هُمَا إِلَى رَبوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَّمَعِین کے خلاف معلوم ہوتی ہے کیونکہ اس آیت کی رو سے مریم کا کشمیر پہنچنا، وہاں نشان بنا اور دونوں کا ایک جگہ مستقل رہائش اختیار کرنا از بس ضروری تھا۔نکولس نوٹو وچ موصوف کا ایک روز نامچہ جرمنی کے ڈاکٹر مارکس اور لداخ کے موریوین سن میں ملا ہے۔اس ڈاکٹر نے لداخ میں چار ماہ تک نکولس کی بیماری کا علاج کیا تھا۔ان روز نامچوں میں جرمن ڈاکٹروں کے جرمن زبان