مسیح کشمیر میں — Page 48
48 اور شکوک بھی ظاہر کئے جانے لگے۔مگر بعد میں دیگر عیسائی سیاحوں اور محققین نے نکولس کے سفر لداخ اور یسوع مسیح کے حالات پر مشتمل لداخ کی خانقاہ ہمس میں قدیم مسودات اور گونا گوں بے ربط قلمی نسخوں کی موجودگی کی تصدیق کیا وران سیاحوں کے ذریعے اس سلسلہ پر مزید حالات شائع ہوتے رہے۔اس کتاب میں انہوں نے اپنے سفر کی مشکلات اور بدھ لا ماؤں (علماء ) سے رسائی حاصل کر کے اپنی کامیابی کا ذکر کیا ہے کہ کس طرح کچھ تھے دے کر انہوں نے بزرگ لاما سے یہ حالات دریافت کئے اور انکی اشاعت کے سلسلے میں رومن چرچ کے پادری کی طرف سے کیا کیا رکا وٹیں پیش آتی رہیں کیونکہ اسی کتاب کی اشاعت سے مسیح کے آسمان پر اٹھائے جانے کے عیسائی عقیدہ کو نقصان پہنچتا تھا بلکہ انہیں کچھ روپیہ کی بھی پیشکش کی گئی کہ وہ روپیہ لے لیں اور اس کتاب کی اشاعت کا خیال ترک کر دیں۔پھر انہوں نے لکھا ہے کہ ان تمام رکاوٹوں کے باوجود کس طرح انہوں نے یہ حالات شائع کر دیے۔پہلے فرانسیسی میں پھر انگریزی میں۔نکولس نے اس کتاب میں حضرت مسیح کے اس سفر کا ذکر کیا ہے جو انہوں نے تیرہ چودہ سال کی عمر میں کیا اور ہندوستان میں 13، 14 سال سے 29 سال تک پھرتے رہے مگر اس کے ساتھ ہی نکولس نے مسیح کی ان تعلیمات کا ذکر کیا ہے جو خدا کے ایک مدعی نبوت ہونے کی حیثیت سے انہوں نے ہندوستان و فارس و تنبت وغیرہ میں پیش کیں۔اس سے صاف ظاہر ہے کہ یہ سفر واقعہ صلیب کے بعد کا ہی سفر تھا جبکہ آپ منصب نبوت پر فائز ہو چکے تھے اور چرچ کے دباؤ کے ماتحت گومصنف نے مسیح کا یہ سفر بچپن کا قرار دیدیا ہے لیکن اس نے ایسا اشارہ بھی دیدیا ہے کہ اس سفر کو آپ کی نبوت کے بعد کا سفر سمجھا ہے۔عیسائیوں کو مسلم ہے کہ یسوع نے تمہیں سال کی عمر میں تعلیم دینی شروع کی ، اس سے قبل نہیں۔اور 33 سال کی عمر میں انہیں واقعہ صلیب پیش آیا تھا۔پس عقل یہی فیصلہ کرتی ہے کہ یسوع مسیح کا یہ مشرقی سفر واقعہ صلیب کے بعد کا ہے۔مشرقی لٹریچر سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے جیسا باب دوئم میں گزرا۔یسوع مسیح کی مخفی زندگی کہاں گزری: رہا یہ سوال کہ حضرت مسیح کی 12 سے تمیں سال تک کی مخفی زندگی کہاں گزری ؟ سو اس پر انجیل اربعہ کوئی روشنی نہیں ڈالتیں۔انجیل مسیح کو اچانک تمیں سال کی عمر میں بہ حیثیت معلم واستاد سامنے لاتی ہیں۔البته کر و سیفیکیشن ہائی این اے وٹنس ( مکتوب یوروشلم ) اس مخفی زندگی پر روشنی ڈالتا ہے۔جو یہ ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام ایسینی برادری کے ممبر تھے اور یہی برادری انکی نگران تھی اور حضرت مسیح حضرت