مسیح کشمیر میں

by Other Authors

Page 25 of 128

مسیح کشمیر میں — Page 25

25 بوذ آسف (یوز آسف) درویشوں کی ایک جماعت کے پیشوا تھے۔یہ جماعت دن کو کماتی اور روزہ رکھتی تھی اور رات کو سد رمق کے طور پر کچھ نہ کچھ کھا لیتی تھی۔ان کا نام تورات میں لکھا ہوا ہے۔انہیں کلدانیاں کہتے ہیں۔(غالباً اسلئے کہ آپ کا لدیا ( عراق ) کے علاقہ سے ادھر آئے تھے ) طهمورث بن ہوشنگ نے قحط کے دوران قحط کی شدت کم کرنے کیلئے اسی سنت کو جاری کرنے اور اس جماعت کی متابعت کرنے کا حکم دیا اس وقت سے روزہ رکھنے کی سنت چل پڑی ہے۔یعنی جب قحط پڑتا ہے تو ایک وقت کھا کر دوسرے وقت کا کھانا سد رمق کے قدر کھا کرغرباء کو دے دیا جاتا ہے اور شیخ سعدی نے بھی اسکی تائید کی ہے۔اس حوالہ سے معلوم ہوا کہ یوز آسف اور اسکی جماعت کا تعلق تو رات موسوی سے تھا جس سے مبرین ہو گیا کہ یوز آسف حضرت مسیح ہی کا دوسرا نام تھا کیونکہ انہی کا نام ” آسف بطور پیشگوئی تو رات میں اور مسیح نام تورات و انا جیل دونوں میں بصراحت مذکور ہے اور یوز آسف دراصل یسوع آسف“ کا نف ہے۔چونکہ یوز آسف یا مسیح عراق سے ادھر آئے تھے جہاں صائبین کثرت سے رہتے تھے۔اسلئے ایران میں آپ کے مخالفین نے آپکو اور آپ کی جماعت کو صائین“ کہنا بھی شروع کر دیا تھا۔یہی وجہ ہے کہ بعض مسلم مؤرخین نے ایران میں یوز آسف کی آمد کے ساتھ ان سے صائبین سے مشابہ عقائد منسوب کر دیئے ہیں مگر ساتھ ہی یہ بھی لکھتے ہیں کہ ہم دوسروں سے یہ نقل کر رہے ہیں اس کے صحیح ہونے کے ہم ذمہ دار نہیں۔افغانستان میں مسیح کی آمد ( دیکھو کامل ابن اثیر جلد 2) پھر ہمیں افغانستان میں حضرت عیسی کی تشریف آوری کا پتا چلتا ہے۔اس ملک کے غزنی اور جلال آباد میں اب بھی ایسے چبوترے پائے جاتے ہیں جو یوز آسف کے چبوترے“ کہلاتے ہیں۔اور لوگ انہیں ” شہزادہ نبی کے چبوترے بھی کہتے ہیں۔شہزادہ نبی بائیبل کی رو سے حضرت مسیح اسرائیلی تھے جو بوجہ داؤد بادشاہ کے خاندان سے ہونے کے شہزادہ نبی کہلاتے تھے اور کتاب ”یوز آسف“ اور تاریخ کشمیر میں بھی تاریخ گزیده صفحه 85 (فارسی) مطبوعہ 1328ھ / 1910 ء لندن۔بعض فارسی مؤرخین کے مطابق روایت ہے کہ یوز آسف مغرب کی طرف سے اس (ایران) میں آئے جو تبلیغ کرتے تھے اور کئی لوگ انکو مانتے تھے بلکہ یوز آسف کی باتیں ایرانی ادبیات میں شامل کی گئی ہیں۔آپ تمثیلوں میں خدا کا کلام کرتے تھے جو عیسی کے تمثیلی کلام سے مشابہ تھیں۔( احوال اہالیان فارس صفحہ 219 از آغا مصطفیٰ)