مسیح کشمیر میں

by Other Authors

Page 24 of 128

مسیح کشمیر میں — Page 24

24 ہیں اور اس سے لوگوں کی روح مطمئن رہتی ہے۔ان کا آتما پر میشور جیو کے ساتھ رہتا ہے اور جب کبھی وہ پر میشور سے دعا مانگنا چاہتے ہیں تو وہ بت یا حیوان یا آگ کے واسطہ کے محتاج نہیں ہوتے بلکہ براہ راست خداان کی دعائیں سن لیتا ہے۔تم انسان کیلئے سورج کی پرستش لازمی بتلاتے ہو اور اسے نیکی اور بدی کی روح مانتے ہومگر یہ مسئلہ تمہارا جھوٹا ہے کیونکہ سورج اپنے آپ کچھ نہیں کرتا۔وہ صرف اس بے شکل خدا کی مرضی کے مطابق چلتا ہے جس نے اسے پیدا کیا۔جس کی مرضی یہ ہے کہ سورج دن میں روشنی دے دے اور انسان کو محنت کے قابل بنا دے اور انکی فصلوں اور پیداوار کو پکائے۔تمام جانداروں کی روح ، روح ابدی ہے۔تم بڑا گناہ کرتے ہو کہ اسکو نیکی و بدی کی روح بتلاتے ہو حالانکہ خدا محض نیکی ہے جو مثل باپ کے اپنے بچوں کی محض نیکی چاہتا ہے اور کرتا ہے اور انکی خطاؤں کو معاف کرتا ہے۔بدی کی روح زمین پر ان لوگوں کے دلوں میں رہتی جو خدا کے بچوں کو راہ راست سے ہٹاتے ہیں اسلئے میں صاف کہتا ہوں کہ خدا سے ڈرو۔قیامت کے جواب سے ڈرو کیونکہ خدا ان لوگوں کو سخت سزا دے گا جنہوں نے اس کے بچوں کو راہ راست سے ہٹایا اور ان کے دلوں میں تو ہمات اور تعصب سے بھر دیا نیز ان لوگوں کو سزا دے گا جنہوں نے آنکھوں والوں کو اندھا کیا، بھلے چنگوں کو بگاڑا اور انکی پرستش سکھلا دی جن کو خدا نے انسانوں کی بھلائی اور انکے کارآمد ہونے کیلئے انکے تابع کر دیا تھا۔پس تمہارا مسئلہ تمہاری غلطیوں کا نتیجہ ہے کیونکہ بچے خدا کو ملنے کی خواہش سے تم نے اپنے لئے جھوٹے دیوتا گھڑ لیے ہیں۔مسیح کی تقریرین کر پجاریوں نے فیصلہ کیا کہ اسے کوئی تکلیف نہ دی جائے مگر رات کے وقت جب کہ تمام شہر سویا ہوا تھا اسے شہر کی چاردیواری سے پکڑ کر باہر ویرانہ میں چھوڑ آئے۔اس خیال سے کہ اسے جلدی جنگلی درندے کھا جائیں گے لیکن خدا کے فضل سے عیسٹی نے بلاکسی ہرج مرج کے اپنا راستہ پکڑا اور کسی اگلے ملک کی طرف روانہ ہوئے۔قدیم یونانی تاریخیں بتلاتی ہیں کہ یوز آسف درویشوں کی ایک جماعت کے پیشوا مانے جاتے تھے۔چنا چه حد اللہ متوفی ( المتوفی 730ھ) نے ” تاریخ گزیدہ نامی (فارسی ) میں طهمورث بن ہوشنگ کا ذکر کرتے ہوئے ملک فارس میں دس سالہ قحط شدید کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس بادشاہ نے روزہ رکھنے کی وہ رسم جاری کی جو بوذ آسف (یوز آسف) نے جاری کی تھی۔کتاب کا ترجمہ ایک ہندو نے کیا ہے اسلئے خدا کا نام وہ پر میشور لکھتا ہے کیونکہ ہندوؤں میں خدا کا اکثر یہی نام رائج ہے۔یسوع کی نا معلوم زندگی کے حالات‘از صفحہ 46 تا صفحہ 81