مسیح کشمیر میں

by Other Authors

Page 23 of 128

مسیح کشمیر میں — Page 23

23 اس سے صحیح طور پر یوں سمجھ لینا چاہئے کہ ھو ما اور برتالمائی حواری دونوں حضرت مسیح کے ہمراہ تھے کیونکہ حز قیل باب 34 جس کا حوالہ پیچھے گزر گیا، کے علاوہ اعمال باب 26 آیت 23 کے مطابق بھی غیر قوموں یا منتشر بنی اسرائیل تک پیغام پہنچانا خود مسیح کیلئے بھی ضروری تھا کہ وہ زندہ ہو کر اس امت کو اور غیر قوموں کو بھی ( غیر قوموں میں منتشر بنی اسرائیل کو بھی ) نُور کا اشتہار دیگا۔(اعمال باب 26 آیت 23 ) اور جدید عیسائی محققین اور بائیل کے بعض مفسرین کے مطابق خود حضرت مسیح بنفس نفیس واقعہ صلیب کے بعد مشرق سے ظاہر ہوئے تھے۔تفصیل آگے آتی ہے۔فارس میں مسیح کی آمد اور اعلانِ نبوت عراق کے بعد فارس میں حضرت مسیح کی تشریف آوری اور اعلان نبوت کرنے کا ذکر ملتا ہے۔نکولس نوٹو وچ ( روسی سیاح) نے مسیح کے فاس ( ایران ) میں وعظ و تبلیغ کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ فارس میں وعظ اور اعلان نبوت کے بعد مسیح گرفتار کر کے زرتشتی مذہب کے بڑے پیشوا کے پاس لائے گئے تو انہوں نے آپ سے کہا کہ اے بد قسمت آدمی! کیا تجھے معلوم نہیں کہ ایک زردشت ہی کو پاک الہام کا فخر حاصل ہوا اسکے بعد کسی اور کو یہ فخر نہیں مل سکتا۔پس تم کون ہو کہ خدا کے الہام کی توہین کرتے ہو اور مومنین کے دلوں میں شکوک و شبہات پیدا کرتے ہو؟ مسیح نے انکو جواب دیا۔میں کسی نئے خدا کی طرف دعوت نہیں دیتا۔میں اسی آسمانی باپ کا اپدیش کرتا ہوں جس نے زردشت پر الہام کیا تھا اور وہ ازلی ابدی ہے۔پہلے بھی کلام کرتا تھا اب بھی اپنے بندوں سے کلام کرتا ہے۔لوگ معصوم بچوں کی مثال ہیں جو اپنی عقل کے زور سے خدا کو جان نہیں سکتے اور نہ اسکی خدائی اور اسکی عظمت کو جان سکتے ہیں۔جیسے نوزائیدہ بچہ اندھیرے میں اپنی ماں کے پستانوں کو ڈھونڈ لیتا ہے ویسے ہیں تمہارے ملک کے لوگوں نے غلط مذہبی روایات و بدعات کی تاریکی میں اپنے شعور سے اس خدا کو پہچان لیا ہے جس کا میں پیغمبر ہوں اور اسے اپنا باپ مان لیا ہے۔از لی خدا نے میری معرفت تمہارے لوگوں کو حکم دیا ہے کہ ” تم سورج کی پرستش مت کرو کیونکہ وہ اس دنیا کا صرف ایک حصہ ہے جسے میں نے انسان کیلئے پیدا کیا ہے۔سورج تم کو کام کرنے کے وقت طاقت دینے کیلئے طلوع ہوتا ہے اور آرام دینے کیلئے غروب ہوتا ہے اور یہ کارروائی میرے حکم سے ( خدا کے حکم سے ) ہوتی ہے۔جو کچھ تمہارے پاس ہے اور تمہارے چاروں طرف یا تمہارے اوپر یا نیچے موجود ہے یہ سب کچھ میرے ہی طفیل ہے۔“ زرتشتی پجاریوں نے اس پر اعتراض کیا کہ اگر بچے ہادی نہ ہوں تو لوگ کیسے انصاف کے اصولوں پر چل سکتے ہیں۔عیسی نے جواب دیا جب بچے ہادی نہیں ہوتے تو قدرتی قوانین لوگوں کی رہنمائی کرتے