مسیح کشمیر میں

by Other Authors

Page 4 of 128

مسیح کشمیر میں — Page 4

4 الغرض فلسطین اور اسکے آس پاس کے علاقوں میں واقعہ صلیب سے بچ جانے کے بعد حضرت مسیح کا قیام کرنا اور امن و آزادی سے کام جاری رکھنا مشکل تھا اور کشمیر جیسے محفوظ ملک کی طرف ہجرت کرنا مذکورہ وجوہ کی بناء پر ان کیلئے ضروری ہوگیا تھا۔مسیح کا واقعہ ہجرت آپ کا واقعہ ہجرت یوں ہے کہ جب یہ افواہ رومی حکومت تک پہنچی تھی کہ مسیح ابھی زندہ ہے تو یہودی علماء نے جو مسیح کے سخت دشمن تھے۔آپ کی تلاش کیلئے آپ کے پیچھے جاسوس دوڑائے اور آپ کے ایک پُر جوش مخالف پولوس کو بھی انعام کا لالچ دے کر آپ کے تعاقب میں دمشق تک بھیجا کیونکہ حضرت مسیح فلسطین سے دمشق (شام) چلے گئے تھے۔وہاں ایسے حالات ہوئے کہ پوٹوس مسیح پر ایمان لایا۔اسکے بعد مسیح دمشق سے خفیہ طور پر نکل گئے۔حدیث میں ہے۔أوحى الله إلى عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ أَنْ يُعِيسَى انْتَقِلُ مِنْ مَكَانِ إِلَى مَكَانِ لِئَلَّا تُعْرَفَ فَتُوذَى ( کنز العمال جلد 2 صفحہ 34) یعنی اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسی پر وحی بھیجی کہ اے عیسی ! ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہو جا تا کہ تو پہچانا نہ جائے اور تجھے تکلیف نہ دی جائے۔اس جگہ کو قرآن میں ”ربوہ“ کہہ کر مسیح و مریم کی پناہ گاہ قرار دیا گیا ہے۔ہجرت کا حکم پا کر حضرت مسیح خفیہ طور پر شام اور شام سے نصیبین ، مکہ، عراق اور پھر ایران آئے اور ان ملکوں میں اپنا پیغام پہنچاتے رہے۔ایران کے قدیم لٹریچر میں آپ کا ذکر یوز آسف کے نام سے ملتا ہے۔پھر افغانستان اور ہندوستان سے ہوتے ہوئے بالآ خر کشمیر پہنچے اور کشمیر جنت نظیر کو شام کی مانند ٹھنڈا پا کر یہیں تبلیغ دین میں زندگی بسر کی اور یہیں فوت ہو کر سرینگر کے محلہ خانیار میں دفن ہوئے۔جہاں آج تک آپ کی قبر زیارت گاہ ہے۔بعض لوگ میسیج کی اس خفیہ ہجرت پر تعجب کرتے ہیں۔حالانکہ جس طرح آنحضرت ﷺ نے مکہ سے مدینہ کی طرف خفیہ ہجرت کی تھی اسی طرح حضرت مسیح نے فلسطین سے کشمیر کی طرف ہجرت کی۔جہاں سابق وقتوں میں بنی اسرائیل آکر آباد ہوئے تھے جن تک پیغام الہی پہنچانا آپ کیلئے ضروری تھا۔جب رسول اللہ ﷺ کی خفیہ ہجرت قابل تعجب نہیں تو یہ ہجرت کیوں قابل تعجب سمجھی جاتی ہے۔جس طرح حضرت نوح کو طوفان سے ، حضرت ابراہیم کو آگ سے ، حضرت موسی کو دریا سے، حضرت یوسف کو کنویں