مسیح کشمیر میں

by Other Authors

Page 3 of 128

مسیح کشمیر میں — Page 3

3 اور وہ مستقل طور پر یہیں بس گئے۔یہ علاقہ چاروں طرف سے بلند و بالا پہاڑوں سے محفوظ ومامون پناہ گاہ کی حیثیت رکھتا ہے جہاں انکے دشمن نہیں پہنچ سکے۔اور انکے گمشدہ اسرائیلی قبائل بھی یہاں بس رہے تھے جن کی طرف وہ مبعوث ہوئے تھے اور یہاں ہی انہوں نے اپنا مشن امن و آزادی سے جاری رکھا اور اسکی تکمیل کر کے کامیاب ہوکر یہاں ہی طبعی وفات پائی۔بلندی کے لحاظ سے بھی سطح زمین سے کشمیر کا مرتفع ہونا قدیم وجدید ہئیت دانوں اور جغرافیہ دانوں کے ہاں مسلم ہے۔اسکی بلندی سطح سمندر سے 18- 19 ہزار فٹ ہے اور اسکی بعض چوٹیاں 29 بہت بلند و بالا ہیں اور جغرافیہ دان اور دنیا بھر کے سیاح علاقہ کوہ ہمالیہ اور کشمیر کو Roof of the World زمین کی چھت، دنیا کی چھت کہتے ہیں۔اور یہ ظاہر ہے کہ جو علاقہ زمین یا دنیا کی چھت کہلا تا ہو وہ زمین میں کمال بلندی پر ہو گا۔کشمیر ذات قرار کے لحاظ سے معتدل ، ٹھنڈا اور صحت بخش علاقہ بھی مسلّم ہے اور چشمے بھی یہاں سال بھر جاری رہتے ہیں اور خشک نہیں ہوتے اور سرسبزی اور شادابی میں بھی بے نظیر ہے۔یہاں چرا گاہوں ، مال مویشی ، گھی ، دودھ کی کثرت ، آبشاروں ، سایہ دار درختوں ، جھیلوں ، تالابوں ، باغوں ، جنگلوں، کھیتوں اور نباتات کے دلکش قدرتی مناظر ہیں۔میسیج کی صحت کی بحالی کیلئے بھی جو صلیبی زخموں اور جسمانی اذیتوں کی وجہ سے کمزور ہو گئے تھے کشمیر جنت نظیر بہت موزوں و مناسب صحت افزاء علاقہ تھا۔الغرض اللہ تعالیٰ نے سورہ مومنون میں مسیح کے دارالہجرت اور پناہ کی جو تعریف کی ہے وہ شام ، فلسطین ، رملہ ،مصر یا دمشق کے علاقوں پر پورے طور پر صادق نہیں آتی۔واقعہ صلیب کے بعد حضرت مسیح ان علاقوں میں پناہ نہیں لے سکتے تھے کیونکہ ان علاقوں میں ان کے دوبارہ گرفتار ہو کر قتل کئے جانے کا خطرہ تھا اس لئے کہ یہ علاقے رومی حکومت کے اثر میں تھے جس نے حضرت مسیح کو باغی قرار دے کرموت کا فتویٰ دیا تھا۔نیز انہوں نے جس مشن کی طرف فلسطین میں وعظ کے دوران اشارہ کیا تھا کہ میرے لئے اپنی گمشدہ بھیڑوں کی طرف جانا بھی ضروری ہے جو فلسطین سے باہر مختلف مشرقی ملکوں میں پھیلی ہوئی تھیں۔وہ بھی اس صورت میں پورا ہو سکتا تھا کہ آپ ان علاقوں سے مشرقی ملکوں کی طرف ہجرت کرتے اور گمشدہ اسرائیلی قبیلوں تک خدا کا پیغام پہنچاتے۔سو انہوں نے وحی الہی کے ماتحت ایسا ہی کیا اور ایران و افغانستان ، ہندوستان ، تبت اور کشمیر کی طرف آئے جہاں بنی اسرائیل منتشر ہو کر مسیح سے قبل آباد چلے آرہے تھے۔فلسطین میں بنی اسرائیل کے بارہ قبیلوں میں سے صرف دو ہی قبیلے آباد تھے۔دس گمشدہ قبائل افغانستان اور کشمیر وغیرہ میں ہی آباد تھے۔