مسیح کشمیر میں

by Other Authors

Page 99 of 128

مسیح کشمیر میں — Page 99

99 بھی یہی تعلیم ہے۔حز قیل میں ہے جو جان گناہ کرتی ہے وہی مریگی۔(باب 18،5) 12- جو ظاہر کو آراستہ کرتا ہے اور اپنے باطن کو برائیوں ، کبر وغرور، حسد، جھوٹ ، کینہ، عداوت اور جہالت سے پاک نہیں کرتا اسکی مثال ایسے صندوق کی ہے جو باہر سے مرصع وملمع ہے مگر اس کے اندر مردار، بد بو، خون اور گندگی ہے۔جو شخص باطن کو علم و حکمت اور نیک اخلاق سے آراستہ کرتا ہے اسکی مثال ایسے صندوق کی ہے جو باہر سے آراستہ نہیں ہے مگر ا سکے اندر موتی لعل، جواہر ہونے ، چاندی اور یاقوت ہیں۔13 - جس طرح بیج بونے سے پہلے کانٹوں سے صاف اور ہموار کرنا پڑتا ہے اسی طرح ایمان سے پہلے نفس کو خواہشات دنیاوی سے پاک کرنا چاہئے۔14- ایک اور تمثیل میں بتلا یا فائدہ کی باتیں چھوڑ کر بے سود باتوں پر نہیں پھنسنا چاہئے۔15۔دنیا دار لوگوں کی مثال جو مومنوں کو ستاتے ہیں، کتوں کی مثال ہے جو مختلف رنگ کے ہوتے ہیں مگر مردار کھانے کیلئے جمع ہو جاتے ہیں اور آپس میں لڑتے جھگڑتے ہیں۔16- انسان کو قناعت سے کھانا پینا اور زندگی بسر کرنا چاہئے اور لالچی آدمی کی مثال ایک لا لچی بادشاہ کی ہے جولڑ جھگڑ کر دوسروں کے ملک و اموال پر قبضہ کرنا چاہتا ہے اور اپنے ملک پر قانع نہیں رہتا۔17۔میں جس راہ کی طرف بلاتا ہوں وہ ایسا نہیں جسے اپنی عقل سے میں نے معلوم کر لیا ہو بلکہ یہ وہ راہ ہے جو خدا نے مجھے دکھائی ہے اور اس میں میری عقل کا دخل نہیں ہے۔18۔جو لوگ اپنی عقل سے یا رسوم و رواج کے تابع ہو کر نئی باتیں نکالتے ہیں انہوں نے دنیا میں تفرقہ پیدا کیا ہے۔اگر سب لوگ اس راہ پر رہتے جو خدا نے پیغمبروں کے ذریعہ سے بتلایا تھا تو تفرقہ نہ پڑتا۔پیغمبر کے بعد ہر زمانہ میں مومنین میں ایسے لوگ شامل ہوئے جو اس کے لائق نہ تھے وہ بدعتیں ایجاد کرتے رہے جو اصل دین کے موافق نہ تھیں۔اسلئے سچائی گم ہوگئی اور لوگوں میں انتشار اور پراگندگی ہے۔19۔انبیاء کی آمد کسی زمانہ میں ہوتی ہے اور کسی میں نہیں ہوتی۔اسکی مثال خزاں و بہار کے موسم کی ہے جو ایک دوسرے کے بعد اپنے وقت پر آتے ہیں۔20۔انبیاء کے ماننے والوں کی تعریف کرتے ہوئے بیان کیا ہے کہ وحی، حکمت ، پیغمبر ،شریعت ، فرشتوں ، آخرت ، جنت و دوزخ سب پر ایمان رکھنا ضروری ہے۔21۔جس طرح اندھے آفتاب کی روشنی سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے اس طرح دنیا دار لوگ خدا کے پیغمبر اور اسکی تعلیم سے فائدہ نہیں اٹھاتے۔مبارک ہیں وہ جو پاک دل ہیں کیونکہ وہ خدا کو دیکھیں گے۔(انجیل متی باب 5 آیت 8) آسمانی بادشاہت کا ذکرانا جیل میں ہے۔