مسیح کشمیر میں

by Other Authors

Page 61 of 128

مسیح کشمیر میں — Page 61

61 پر یوروشلم سے ہجرت کر گئے۔اس خط میں لکھا ہے کہ حضرت مسیح نے فرمایا: میں یہ نہیں بتا سکتا کہ اب کہاں جاؤں گا کیونکہ میں اس امر کو مخفی رکھنا چاہتا ہوں اور میں سفر بھی تنہا کروں گا‘ اس مکتوب میں حضرت مسیح کے آسمان پر نہ جانے بلکہ دھند اور گہر میں جو پھیلی ہوئی تھی اُٹھ کر اپنے مخفی سفر پر روانہ ہونے کے بارے میں لکھا ہے۔"As the disciples knelt-down their faces bent towards the ground۔Jesus rose and hastily went away through the gathering mist۔۔۔But in the city there arose a rumer that Jesus was taken up in a cloud and had gone to Heaven۔This was invented by the people who had not been present when Jesus departed۔" ترجمہ : ” جب حواریوں نے (عبادت میں ) گھٹنے ٹیکے تو ان کے چہرے زمین کی طرف جھکے ہوئے تھے یسوع اٹھا اور جلدی سے پھیلی ہوئی گہر میں چلا گیا۔۔۔لیکن شہر میں یہ افواہ پھیل گئی کہ یسوع بادل میں سے ہو کر آسمان پر چلا گیا۔یہ خبر ان لوگوں نے ایجاد کی تھی جو مسیح کے رخصت ہونے کے وقت موجود نہ تھے۔“ اس مکتوب کی تفصیلات اگر چہ دلچسپ ہیں مگر قلت گنجائش کی وجہ سے ہم وہ بیان نہیں کر سکتے۔خلاصہ یہ ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام یوسف ارتیا اور حکیم نقاد یمس اور فرقہ ایسینی یا اسیری کے احباب کی مخفی کوششوں اور مخلصانہ جد و جہد کے نتیجہ میں صلیبی موت سے بچالئے گئے اور کچھ عرصہ ایسینیوں کے پاس چھپ کر بحیرہ مردار میں رہے۔اس میں خدا کی مخفی تقدیر بھی کام کر رہی تھی کیونکہ خدا نے مسیح سے وعدہ کیا تھا کہ وہ انہیں صلیبی موت سے بچالے گا۔پیلاطوس رومی حاکم جس سے یہودیوں نے مسیح کی موت کی سزا کے فتویٰ پر تصدیق کرائی تھی، بھی آپ سے در پردہ ہمدردی رکھتا تھا۔جب مسیح ناصری صلیب پر میخوں اور رسیوں سے جکڑے گئے تو ان پر غشی طاری ہوگئی لیکن صلیب سے اتارے جانے پر بھی آپ زندہ تھے۔جب آپ کے ساتھ دو اور مصلوب چوروں کی ہڈیاں توڑی گئیں اور سپاہی آپ کے پاس بھی ہڈیاں توڑنے آئے تو ہیڈ سپاہی نے جو مسیح کو نیک آدمی سمجھتا تھا کہا کہ اسکی ہڈیاں نہ توڑو یہ مر چکا ہے۔جب ایک سپاہی نے آپ کی پسلی پر بھالا چھویا کہ آیا زندہ ہے یا مر گیا، تو پہلی سے خون اور پانی بہہ نکلا۔اگر چہ یہ علامت تو آپ کی زندگی کی تھی مگر جب آپ کے جسم سے کوئی حرکت نہ ہوئی تو سپاہی نے بھی یقین کر لیا کہ یسوع مر