مصالح العرب (جلد 2 ۔۱۹۵۵ء تا ۲۰۱۱ء تک) — Page 67
55 مصالح العرب۔۔۔۔۔۔۔جلد دوم دی گئی جس میں صدرانجمن احمدیہ اور تحریک جدید کے متعدد ناظر و وکلاء صاحبان اور دیگر بزرگان سلسلہ و علمائے کرام کے علاوہ حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب اور صاحبزادہ مرز ا مبارک احمد صاحب وکیل التبشیر نے بھی شمولیت فرمائی اور مہمانوں سے تبادلہ خیالات کیا۔اس موقعہ پر تلاوت قرآن کریم کے بعد جو انڈو نیشین طالب علم منصور احمد صاحب نے کی مولوی بشارت احمد صاحب بشیر، نائب وكيل التبشیر نے معزز مہمانوں کی خدمت میں عربی میں ایڈریس پیش کیا۔ایڈریس میں مہمانوں کا خیر مقدم کرتے ہوئے انہیں جماعت احمد یہ سے متعارف کیا گیا۔اور اس سلسلے میں بیرونی ممالک میں تعمیر مساجد، مختلف زبانوں میں قرآن کریم کے تراجم اور تبلیغ کے ذریعہ جماعت احمد یہ جو دینی خدمات سرانجام دے رہی ہے اس کا مختصراً ذکر کیا گیا۔ایڈریس کے جواب میں دونوں مہمانوں نے مختصر طور پر اپنے خیالات کا اظہار فرمایا۔الاستاذ سید محمود عودہ نے اپنی تقریر میں بتایا کہ میرے پاکستان آنے کا مقصد یہ ہے کہ یہاں کے حالات کا جائزہ لے کر پاکستان اور عرب جمہوریہ متحدہ کے درمیان مزید گہرے روابط پیدا کرنے میں مدد دوں۔آپ نے کہا کہ دونوں اسلامی ملک مل کر دنیا کے موجودہ حالات میں نہایت اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔جماعت احمدیہ کے مرکز ربوہ میں آنا بھی میرے پروگرام کا ایک اہم حصہ تھا جسے آج میں پورا کرتے ہوئے دلی خوشی محسوس کر رہا ہوں۔اسلام ایک جامد مذہب نہیں ہے۔وہ پہلے بھی کئی ایک مادی فلسفوں کا کامیابی سے مقابلہ کر چکا ہے۔ہمیں آج بھی متحد ہو کر یہ ثابت کر دینا چاہئے کہ اسلام اس زمانہ میں بھی ایک زندہ طاقت ہے جو زمانہ کے تقاضوں کو پورا کرسکتا ہے۔آخر میں آپ نے اہلِ ربوہ کا شکر یہ ادا کیا۔پروفیسر فوزی خلیل نے اپنی تقریر میں عربی زبان کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے فرمایا کہ یہی ایک زبان ہے جو رنگ ونسل کے فرق کے باوجود عالم اسلام میں اتحاد اور یگانگت پیدا کرسکتی ہے۔اہلِ پاکستان کو بھی اس زبان کی ترویج و اشاعت میں نمایاں حصہ لینا چاہئے۔تاریخ احمدیت جلد 20 صفحہ 394-395 00000